خطبات محمود (جلد 18) — Page 158
خطبات محمود ۱۵۸ سال ۱۹۳۷ء کچھ نقصان پہنچا سکتے ہیں ؟ کبھی نہیں۔ہاں تمہیں اُس تعلیم پر عمل کرنا چاہئے جو خدا تعالیٰ کے مامور نے تمہیں دی اور جو یہ ہے کہ گالیاں سن کر دعا دو پا کے دُکھ آرام رو کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار اور جو تعلیم قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے دی ہے کہ جب کسی مجلس میں خدا اور اُس کے رسول کو گالیاں دی جاتی ہوں تو وہاں سے اُٹھ کر چلے آؤ اور بے غیرت مت بنو۔مگر تمہاری غیرت کا یہ حال ہے کہ ادھر ہم منع کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اُن کے جلسہ میں کوئی نہ جائے اور اُدھر تم میں سے کوئی کونوں میں چھپ کر ان کی تقریر میں سنتا ہے، کوئی کسی ہمسایہ کے مکان پر چڑھ کر وہاں سے تقریریں سنتا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ اُن کے دل میں یہ گد گدی اُٹھ رہی ہوتی ہے کہ کسی طرح جائیں اور گالیاں سنیں۔کیا تم نے کبھی مجھے بھی دیکھا کہ میں ان جلسوں میں گیا ہوں ؟ پھر کیا تمہارے سینہ میں ہی دل ہے میرے سینہ میں نہیں۔پھر تم کو کیوں شوق آتا ہے کہ جاؤ اور گالیاں سنو۔اسی وجہ سے کہ تمہارے دلوں میں غیرت نہیں اور جب میں یہ کہتا ہوں کہ تمہارے دلوں میں غیرت نہیں تو اس سے مراد وہی خاص لوگ ہیں جو بڑھ بڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور پھر قابل شرم بے غیرتی کا نمونہ دکھاتے ہیں۔پس تمہارا گالیاں سننا بتاتا ہے کہ تمہارے دل مردہ ہو چکے ہیں۔تم بے ایمانی کے ساتھ ایمان کا جبہ پہن کر نکلے ہو اور تمہاری غرض محض تماش بینی ہے۔ایسے لوگ اُس وقت بھی تماش بین ہوتے ہیں جب وہ ہماری مجلسوں میں شور مچارہے ہوتے ہیں اور کہتے ہی ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عزت کی حفاظت ہونی چاہئے۔اور جب وہ اُس مجلس میں جاتے ہیں جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دی جاتی ہیں تو وہاں بھی ان کی حیثیت ایک تماش بین کی سی ہوتی ہے اور یقیناً ایسے لوگ اپنی قوم کیلئے عارا اور ننگ کا باعث ہوتے ہیں۔پھر میں تمہیں کہتا ہوں تم اپنے آپ کو باغیرت کہتے ہو اور تم سمجھتے ہو کہ تم سلسلہ کیلئے قربانی دینے کی والے ہو گر تمہارے پاس اس الزام کا کیا جواب ہے کہ جب آریوں کا پروسیشن نکل رہا تھا تو تم میں۔ایک شخص نے مرزا غلام احمد زندہ باد کا نعرہ لگایا۔اس میں غیرت کا کونسا سوال تھا ؟ کیا دوسری قوموں کا حق نہیں کہ وہ بھی اپنے بزرگوں کے حق میں نعرے لگا ئیں ؟ تم کہتے ہو لوگ ہم پر جھوٹا الزام لگاتے ہی ހނ ہیں کہ ہم میں سے کسی نے لیکھرام مُردہ باد کا نعرہ لگا یا تھا۔میں کہتا ہوں یہ درست ہے کہ تم میں سے کسی نے