خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 15

خطبات محمود ۱۵ سال ۱۹۳۷ء ہے۔وہ برابر یہی کہے جا رہے ہیں کہ ہم بھی رفاہ عام کے کاموں میں حصہ لیں گے اور ثواب میں شریک ہوں گے۔پس غلطیاں دونوں طرف ہیں اور حالت وہی ہو رہی ہے کہ ” جو گی جو گی لڑیں اور کھپروں کا نقصان۔جو گی آپس میں لڑنے لگے تو چھپروں کی چھتوں کو تو ڑ کر لکڑیاں اور سلیں ایک دوسرے کو مارنے ی کیلئے اُتار لیں۔ان لڑائیوں کے نتیجہ میں وہ قومیں جن کے پاس لڑائی یا حفاظت کیلئے سامان نہیں ہیں، تباہی ہو رہی ہیں۔پس یہ صحیح نہیں کہ ہم ان باتوں سے بے دخل ہو سکتے ہیں۔انگلستان کے ساتھ ہمارے تعلقات کی نوعیت ایسی ہے کہ جس چیز سے اُسے نقصان پہنچے اس سے ہندوستان کو بھی پہنچے گا خواہ کی ہندوستانی انگریزوں سے بے تعلقی ہی ظاہر کریں۔مثلاً اگر اٹلی والے ابی سینیا میں فوجی مرکز قائم کر کے ہندوستان پر حملہ کریں تو اس سے ہندوستانی ہی مریں گے۔پس ہمارے لئے خاص کر ان قوموں کیلئے جو انگریزوں سے تعلقات رکھتی ہیں بہت خطرات کی ہیں۔حالات ایسے ہیں کہ انگریز اس جنگ سے باہر نہیں رہ سکتے۔چین اور افغانستان وغیرہ ممالک ممکن ہے بچ جائیں مگر انگلستان کا ان اثرات سے محفوظ رہنا محال ہے اس لئے دوستوں کو خصوصیت۔دعائیں کرنی چاہئیں کہ آئندہ جو سامان لڑائی یا فتنہ کے ہوں اللہ تعالیٰ ہمارے لئے اور ہمارے ساتھ تعلق رکھنے والی اقوام کیلئے ان سے بچنے کے سامان بھی کر دے۔بیشک تم مسولینی ۵ کی طرح گھونسہ نہیں کی دکھا سکتے ، ہٹلر کی طرح تلوار نہیں چکا سکتے مگر دعا ئیں تو کر سکتے ہو اور پھر اپنے آپ کو منظم کر سکتے ہو کیونکہ منتظم قوم کو ہر ایک اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرتا ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ انگریزوں کے بعض افراد سے ہمیں شکوہ ہے اور جب تک ازالہ نہ ہو جائے وہ دور نہیں ہو سکتا۔مگر اس میں بھی شبہ نہیں کہ انگریز قوم کے ساتھ ہمارے تعلقات ایسے ہیں کہ اس کی تباہی کے بعد ہم نقصان سے نہیں بچ سکتے اس لئے یہ بھی دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالی انگریزوں کو ایسے رستہ پر چلائے جو انہیں تباہی کی طرف لے جانے والا نہ ہو۔پھر فرانس اور ترکی کا جھگڑا ہو رہا ہے۔شام کے بعض علاقے فرانس نے لے لئے تھے۔پہلے اس نے وعدہ کیا تھا کہ بعد میں ان کو چھوڑ دے گا مگر اب وہ انہیں چھوڑنے کیلئے تیار نہیں۔ترک ان علاقوں کو مانگ رہے ہیں اور بظاہر جنگ پر آمادہ لیکن حالات بظاہر ترکوں کے سخت خلاف ہیں۔کیونکہ چند