خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 148

خطبات محمود ۱۴۸ سال ۱۹۳۷ء پاگل ہو گئے ہیں اور وہ گدی کا انتظام نہیں کر سکتے۔ذرا ذراسی بات پر لڑتے اور جوش میں آکر گالیاں دینے لگ جاتے ہیں اور ان کا غصہ حد اعتدال سے بالکل باہر نکل گیا ہے۔مہا راجہ بیچارے کو پتہ بھی نہیں اور گورنمنٹ کے پاس شکایتیں ہو رہی ہیں کہ مہاراجہ صاحب پاگل ہو گئے ہیں۔پہلے چھوٹوں کی طرف سے گورنمنٹ کو لکھا گیا۔پھر بڑے بڑے افسروں کی طرف سے اور پھر ان سے بھی بڑے عہدہ داروں کی طرف سے۔جب شکایتوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی اور بڑے بڑے افسروں نے خو دل کر بھی گورنمنٹ کی کے پاس شکایت کرنی شروع کر دی تو گورنمنٹ کو خیال پیدا ہوا کہ تحقیقات کرنی چاہئے۔چنانچہ اس نے مخفی طور پر کمشن کو بھجوایا کہ وہ مہا راجہ سے باتیں کر کے رپورٹ کرے کہ یہ شکایتیں کس حد تک صحیح ہیں اور یہ بھی کہہ دیا کہ ڈاکٹر کو بھی ساتھ لیتے جاؤ اور باتوں باتوں میں اندازہ کر کے رپورٹ کرو کہ ان شکایتوں میں کس حد تک معقولیت ہے۔فریق مخالف جس نے شکایت کی تھی وہ چونکہ ہر تدبیر سے اپنی بات کو منوانا چاہتا تھا اس لئے اس نے سرکاری دفاتر میں بھی بعض آدمی خریدے ہوئے تھے۔جس وقت کمشنر صاحب تحقیقات کیلئے جانے لگے، ان سرکاری آدمیوں نے اطلاع کر دی کہ کمشنر صاحب آرہے ہیں۔چنانچہ جونہی انہوں نے سمجھا کہ اب کمشنر صاحب کے آنے کا وقت بالکل قریب آ پہنچا ہے اور ایک آدھ منٹ میں کی ہی وہ دربار میں داخل ہو جائیں گے۔انہوں نے ایک پوری جھلنے والے کو اشارہ کر دیا جسے انہوں نے ی پہلے سے اپنے ساتھ ملایا ہو ا تھا اور اُس نے جھک کر مہا راجہ کے کان میں دو تین گالیاں ماں اور بہن کی تی دے دیں۔اب تم سمجھ سکتے ہو کہ مہاراجہ تخت پر بیٹھا ہوا ہو ، دربار لگا ہوا ہو اور پوری جھلنے والا مہا راجہ کو اُس کے کان میں ماں کی گالیاں دے دے تو اُس کی کیا کیفیت ہو سکتی ہے۔مہاراجہ جوش سے اُٹھا اور اس نے بے تحاشہ اُسے مارنا شروع کر دیا۔اب غصہ سے اُس کے منہ سے جھاگ نکل رہی تھی اور کی وہ اسے ٹھڈے پر ٹھڈے مارتا چلا جارہا تھا کہ اتنے میں کمشنر صاحب اندر داخل ہو گئے اور وہ پارٹی کی پارٹی کھڑی ہو کر کہنے لگی ” حضور! روز ساڈے نال اسے طرح ہوندا ہے۔یعنی حضور ! ہمارے ساتھ روزانہ یہی سلوک ہوتا ہے۔کمشنر صاحب کی رپورٹ پر گورنمنٹ نے فیصلہ کیا کہ مہاراجہ واقعہ میں حواس باختہ ہے نتیجہ یہ ہوا کہ مہا راجہ صاحب کے اختیارات محدود کر دیئے گئے اور وہ لڑکا جسے رانی نے گود میں ڈال لیا تھا اور جو ایک ملازم سرکار کا لڑکا تھا جسے بعد میں حج بنادیا گیا ، جوان ہو کر گدی پر بٹھایا گیا اور خوش قسمتی سے نہایت شریف اور کامیاب راجہ ثابت ہو رہا ہے۔