خطبات محمود (جلد 18) — Page 147
خطبات محمود ۱۴۷ سال ۱۹۳۷ء ساتھ اوروں کو ملاتے اور ساٹھ بن جاتے ہیں۔ساٹھ ایک سو بیس کی کشش کا موجب بنتے ہیں اور ایک سو بیس کے شور مچانے پر دو سو چالیس کی تعداد ہو جاتی ہے۔یہ دوسو چالیس پھر چار سو اتنی ہو جاتے ہیں جو بڑھ کر نو سو ساٹھ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔یہاں تک کہ رفتہ رفتہ ساری جماعت ایک معمولی وجہ سے ایسی لڑائی میں شامل ہو جاتی ہے جس کا کوئی بھی نتیجہ نہیں ہوتا اور دشمن دل میں ہنستا ہے کہ جو میری غرض تھی وہ پوری ہوگئی۔ایک مشہور واقعہ پنجاب کے ایک رئیس کا ہے جو اس مقام پر خوب چسپاں ہوتا ہے۔پنجاب کے ایک مشہور راجہ گزرے ہیں جن کا نام لینے کی ضرورت نہیں ان کے ہاں کوئی اولاد نہیں تھی۔ان کے دربار میں دو پارٹیاں تھیں۔ایک وزیر اعظم کی اور ایک اور وزیر کی اور یہ دونوں پارٹیاں روزانہ آپس میں لڑتیں اور راجہ کے پاس شکایتیں ہوتیں۔ایک پارٹی دوسری پارٹی کے خلاف شکایت کرتی اور دوسری کی پہلی کے خلاف راجہ کے کان بھرتی اور ہر ایک کی یہی کوشش ہوتی کہ راجہ صاحب ہمارے ساتھ مل جائیں اور دوسری پارٹی پر ناراض ہو جائیں۔اس لڑائی نے ترقی کرتے کرتے سخت بھیانک شکل اختیار کر لی۔ایک دن ایک پارٹی نے تجویز کی کہ کوئی ایسا کام کرنا چاہئے جس سے مخالف پارٹی کو بالکل کچل دیا جائے۔چنانچہ انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اور یہ فیصلہ ہوا کہ ایک رانی کو اپنے ساتھ ملایا جائے اور یہ مشہور کر دیا جائے کہ اُس کے ہاں اولاد ہونے والی ہے۔چنانچہ انہوں نے ایک رانی کو اپنے ساتھ ملالیا اور اُسے کہ دیا کہ عین وقت پر ہم تمہیں ایک بچہ لا کر دے دیں گے اس سے راجہ کی نگاہ میں تمہاری عزت بھی قائم ہو جائے گی اور اس کے بعد گدی پر بیٹھنے کا بھی وہی حقدار ہوگا۔جب یہ خبر عام لوگوں میں مشہور ہو گئی تو دوسرے فریق نے راجہ کے کان بھرنے شروع کر دیئے کہ یہ بالکل جھوٹ ہے۔مہارانی حاملہ نہیں بلکہ شرارت سے مخالف پارٹی نے اسے حاملہ مشہور کر دیا ہے۔اب مہاراجہ صاحب نے بیوی کی نگرانی شروع کر دی اور کچھ عرصہ کے بعد انہیں پتہ لگا کہ یہ محض فریب کیا جا رہا ہے ، رانی حاملہ نہیں ہے۔اس پر انہوں نے گورنمنٹ کے پاس اس امر کے متعلق کوشش شروع کر دی کہ جس بچہ کے متعلق مشہور کیا جا رہا ہے کہ وہ پیدا ہونے والا ہے وہ میرا نہیں ہوگا اور نہ تخت کا وارث ہوگا۔یہ بات دوسرے فریق پر بھی گھل گئی اور انہوں نے مشورہ کیا کہ اب کوئی ایسی چال چلنی چاہئے جس کے نتیجہ میں ہماری سکیم فیل نہ ہو۔چنانچہ انہوں نے مختلف لوگوں سے گورنمنٹ کے پاس چٹھیاں لکھوانی شروع کر دیں کہ مہاراجہ صاح