خطبات محمود (جلد 18) — Page 10
خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء کرنے کی کیا ضرورت ہے۔میں اس دوسری قسم کے لوگوں کو مخاطب نہیں کرتا بلکہ اُن کو کرتا ہوں جو خدا کے نزدیک بھی جماعت میں شامل ہیں۔بابر نے اپنے دشمنوں سے گیارہ مرتبہ شکست کھائی اور اس کے بعد وہ بیان کرتا ہے کہ میں پاخانہ بیٹھا ہو ابھی ملکوں کی فتوحات کے متعلق سوچا کرتا تھا اور میری ترقی کا ذریعہ ہی یہ ہوا کہ ایک مرتبہ کی پاخانہ بیٹھے ہوئے میں نے دیکھا کہ ایک چیونٹی ایک دانہ کو دیوار پر چڑھانا چاہتی ہے دانہ بڑا اور وہ چھوٹی تھی بار بار چڑھتی اور پھر گر جاتی تھی اور اسی طرح وہ ہیں سے زیادہ بارگری لیکن آخر کار کامیاب ہوگئی۔یہ دیکھ کر مجھے استنجے کی بھی ہوش نہ رہی اور میں نے خیال کیا کہ کیا میں اس چیونٹی سے بھی گیا گزرا ہوں کہ گیارہ شکستوں سے ڈر جاؤں۔چنانچہ اُس نے پھر اپنے ساتھیوں کو جمع کیا اور اللہ تعالیٰ نے اسے کامیابی دی اور آج دُنیا کے بڑے بڑے بادشا ہوں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔پھر کیا ہماری جماعت کیلئے جسے اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ فتوحات پر فتوحات دی ہیں اور جس نے شکست کا نام بھی نہیں سنا، مناسب ہے کہ خیال کرے ہمیں دنیا سے کیا ؟ ہمارے ایک غریب زمیندار کو جود و یا چار کنال زمین پر گزراوقات کرتا ہے، یہ ہرگز ہرگز خیال نہیں کرنا چاہئے کہ مجھے دُنیا کی سیاست سے کیا سروکار۔ایک غریب تاجر جو چار یا چھ آنے یومیہ کماتا ہے اسے یہ خیال کر لینا مناسب نہیں کہ مجھے غیر ممالک میں پیدا ہونے والے انقلابات سے کیا واسطہ۔اسی طرح ایک چھوٹے مدرس کو جو الف۔ب پڑھاتا ہے یہ ہرگز سمجھنا نہیں چاہئے کہ مجھے دُنیوی علوم سے کیا تعلق۔اسی طرح ہمارے بڑھئی ، درزی اور دھوبی کو یہ بھی نہیں سمجھنا چاہئے کہ میں جو کماتا ہوں اس میں سے حسب حیثیت چندہ دے دیتا ہوں مجھے اس سے کیا مطلب کہ دنیا کی اقتصادی حالت کیسی ہے۔بلکہ ان میں سے ہر ایک کو یہ سمجھنا چاہئے کہ اسے اسی لئے پیدا کیا گیا ہے کہ دنیا کوالٹ دے۔جو شخص بھی اس جماعت میں داخل ہوتا ہے وہ گویا اقرار کرتا ہے کہ اس جماعت کی ذمہ وار یوں کو وہ قبول کرتا ہے۔اور اگر ابھی وہ زمانہ نہیں آیا کہ وہ باہر نکلے تو کم سے کم اسے یہ خیال تو کرنا چاہئے کہ وہ کس غرض کیلئے پیدا کیا گیا ہے۔کیا فوجی سپاہی ہر روز لڑائی کرتے ہیں؟ یا کیا پولیس والے ہر روز چوروں کو پکڑا کرتے ہیں؟ مگر کیا کبھی کسی سپاہی کے دل میں یہ خیال آسکتا ہے کہ میں لڑنے کیلئے نہیں ہوں؟ ایک پولیس مین خواہ دس سال تک کسی چور کو نہ پکڑ سکے اس کے مد نظر یہی ہوگا کہ جب بھی موقع