خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 647 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 647

خطبات محمود ۶۴۷ سال ۱۹۳۷ء ہے کہ ہر انسان اس میں کامیاب نہیں ہو سکتا کہ ساری نیکیاں کرے۔مگر جو یہ خیال کر لیتا ہے کہ اگر کوئی چھوٹ جائے تو کیا حرج ہے۔اس کی سو میں سے اگر ایک بھی چھوٹ جائے تو باقی ناوے بھی ساتھ ہی ضائع ہو جاتی ہیں۔اس لئے پیشتر اس کے کہ میں وہ باتیں بیان کروں جو میں تحریک جدید کے سلسلہ میں کہنا چاہتا ہوں میں چاہتا ہوں کہ جماعت اپنی ذہنیت میں تبدیلی کرلے اور جو تبدیلی نہیں کرے گا وہ یا تو ان منافق بنے گا اور یا پھر ہمارے رستہ میں پتھر بن کر رُکاوٹ پیدا کرے گا۔آئے دن ان کی طرف سے فتنے اٹھتے رہیں گے۔سفر میں جو شخص ساتھ چلنا چاہے مگر چل نہ سکے وہ ہمیشہ دوسروں کے لئے مصیبت ہی بنہ کرتا ہے۔کبھی کہتا ہے ذرا بیٹھ جاؤ ، سانس لے لیں۔کبھی کہتا ہے پانی پی لیں اور کبھی یہ کہ پیشاب کر لیں اور اس طرح دوسروں کا سفر بھی خراب کرتا ہے لیکن جب ذہنیت میں تبدیلی پیدا ہو جائے تو ہر شخص اپنی ذمہ واری کو سمجھتا ہے۔چونکہ جلسہ کے ایام قریب ہیں اس لئے میں اس وقت اہم تفاصیل میں جانا نہیں چاہتا۔اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو انشاء الله جلسہ سالانہ کے بعد بیان کروں گا۔مگر فی الحال دوستوں کو اس امر کی کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی ذہنیت میں تبدیلی پیدا کریں۔اس کے متعلق میں نے پہلے بھی بعض خطبے کی پڑھے تھے اور توجہ دلائی تھی کہ جب تک ہماری ذہنیت میں تبدیلی نہ ہو کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا۔جب تک ہمارا دانا اور نادان، عالم اور ان پڑھ، چھوٹا اور بڑا، بچہ اور بوڑھا یہ سمجھ نہیں لیتا کہ اسلام در اصل ایک خاص قسم کے قوانین کے مجموعہ کا نام ہے اور جب تک ہم ان کو جاری نہیں کر لیتے اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔اسلام نہ کسی کلمہ کا نام ہے اور نہ کسی اقرار کا۔یہ کلمے اور اقرار تو صرف علامتیں ہیں اور تعلیمات کے خلاصے ہیں۔ورنہ اسلام ایک وسیع تمدنی دائرہ کا نام ہے جسے قائم اور مکمل کئے بغیر قومی زندگی حاصل نہیں ہو سکتی۔جب ہم اس دائرہ کو مکمل کرنے میں کامیاب ہو جائیں، جب اس کعبتہ اللہ کی تعمیر کر لیں ، اُسی وقت ہم کامیاب ہوں گے۔اُسی وقت حج شروع ہوگا لیکن جب تک وہ دائرہ ہم مکمل نہیں کر لیتے ، جب تک وہ گھر نہیں بنالیتے اُس وقت تک کامیابی کی تمام امیدیں محض وہم ہیں جن کے اندر کوئی حقیقت نہیں۔جیسا کہ میں کہہ آیا ہوں تفاصیل تو اِنشَاءَ اللہ جلسہ سالانہ کے بعد بیان کروں گا مگر بعض چھوٹی چھوٹی چیزوں کا ذکر اس اثنا میں بھی کرتا رہوں گا۔چنانچہ ایک آج بیان کرتا ہوں جو یہ ہے کہ نو جوانی