خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 605 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 605

خطبات محمود ۶۰۵ سال ۱۹۳۷ء گاؤں خاص سکیم کے ماتحت نیا بنا لینا اور ساری دنیا میں تبلیغ کیلئے آدمی تیار کرنا اور پھر ان کی علمی اور اخلاقی نگرانی کرنا ان دونوں باتوں میں بہت فرق ہے ۔ اس وقت امریکہ میں کئی ایسے سکول ہیں جو دیال باغ کی طرح کام کر رہے ہیں ۔ مگر ہم نے تو دنیا میں مبلغین پھیلانے ہیں ۔ اور پھر ایک بہت بڑی دقت یہ ہے کہ ہم وہ لوگ ہیں جو تجارتی اور صنعتی کاموں سے واقف نہیں ۔ میں خود جو اس کام کو چلا رہا ہوں زراعت پیشہ ہوں اور نہ معلوم سینکڑوں یا ہزاروں سال سے ہمارا خاندان تجارتی کاموں سے بے تعلق چلا آتا ہے۔ اس لئے اگر خدا تعالیٰ ہمیں اس میں کامیاب کر دے تو یہ ایک ایسا کام ہوگا جس کی نظیر دنیا میں نہیں مل سکے گی۔ مگر یہ ساری کامیابی توجه، دیانت داری اور تعاون کو چاہتی ہے اور مجھے افسوس ہے کہ ابھی جماعت میں تعاون کی روح پیدا نہیں ہوئی۔ عورتوں کے متعلق میں نے ایک سکیم بنائی تھی اور اس کیلئے خود روپیہ دیا تھا اور لجنہ کے ذریعہ کوشش کی تھی کہ غریب عورتیں کام کریں۔ اور میں جانتا ہوں کہ یہاں بہت سی عورتیں ایسی ہیں کہ جن کو وہ کام کرنا چاہئے تھا مگر میں نے دیکھا ہے کہ وہ گزارہ کیلئے مانگتی تو تھیں مگر کام یہ کہ کر کرنے سے انکار کر دیتی تھی کہ مزدوری تھوڑی ہے۔ حالانکہ یہاں جو مزدوری ہم دیتے تھے وہ اُس سے ڈیوڑھی تھی جو امرتسر میں اسی کام کیلئے ملتی ہے ۔ مگر وہ اس اُجرت پر کام نہیں کرتی تھی اور گھر بیٹھی درخواستیں لکھوا لکھوا کر بھیجتی رہتی تھیں کہ ہمیں فلاں ضرورت ہے ، فلاں حاجت ہے، ہماری مدد کی جائے ۔ حالانکہ میں نے یہ ہے، بھی کہہ دیا تھا کہ اس کام سے جو آمدنی ہوگی وہ بھی غرباء پر ہی خرچ ہوگی ۔ انہیں تو چاہئے تھا کہ اگر تھا مزدوری کم بھی تھی تو کام کرتیں۔ امرتسر میں اگر ایک ازار بند بنانے کی اُجرت ایک پیسہ ہو اور یہاں صرف دھیلا بلکہ دمڑی ملتی پھر بھی ان کو چاہئے تھا کہ کام کرتیں کیونکہ وہ آمدنی پھر غرباء میں جانی تھی ۔ مگر انہوں نے ڈیوڑھی دُگنی مزدوری لے کر بھی کام کرنا پسند نہ کیا۔ اور یہ ایک بہت بڑا نقص ہے جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہماری جماعت تاجر نہیں ۔ ہمارے لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ کام وہ کرنا چاہئے جس میں پورا گزارہ ہو سکے ۔ حالانکہ بہتر یہ ہے کہ جو کام بھی ملے وہ کر لیا جائے اور پوری محنت کرنے کے بعد اور پورا وقت کام کرنے کے باوجود اگر گزارہ نہ ہو تو انسان کا حق ہے کہ امداد کی درخواست کرے ۔ ایک شخص پورا وقت کام کرتا ہے مگر پھر بھی دو روپیہ ہی کما سکتا ہے تو اس کا حق ہو جاتا ہے کہ اس کی باقی ضرورتیں جماعت پوری کرے۔ کیونکہ جو شخص بتا دیتا ہے کہ روزانہ چھ گھنٹے کام کرنے کے باوجود اسے دور و پے ہی