خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 601 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 601

خطبات محمود ۶۰۱ سال ۱۹۳۷ء مستقل کام ہے جسے تین سال کے بعد چھوڑ انہیں جاسکتا۔پھر ابھی تک کئی ممالک ایسے ہیں جہاں مبلغین پہنچنے چاہئیں مگر نہیں پہنچے۔مومن کسی نیک کام کو شروع کر کے اُسے بند نہیں کرتا بلکہ اسے بڑھاتا ہے اور یہی نیت میری ہے کہ اگر خدا تعالیٰ توفیق دے تو ہر ملک میں مشن قائم کر دیئے جائیں۔اب تک تو صرف یہ کوشش کی گئی ہے کہ زیادہ سے زیادہ ممالک میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام پہنچا دیا جائے اور اس میں بعض نا تجربہ کارلوگوں سے کام لینا پڑا ہے۔بعض کام ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں تجربہ کاروں کا انتظار نہیں کیا جا سکتا۔کسی شخص کے مکان پر ڈاکوؤں نے حملہ کیا ہوا ہو تو کیا وہ یہ انتظار کرتا ہے کہ سپاہی آئیں تو ان سے لڑائی کریں؟ نہیں بلکہ اس کے گھر کے لوگوں میں سے جس کے ہاتھ میں لٹھ آجائے وہ لٹھ لے کر ، جس کے ہاتھ میں کدال ہو وہ کدال لے کر مقابلہ کیلئے کھڑا ہو جاتا ہے۔اُس وقت تجربہ کاروں کے انتظار میں وقت ضائع نہیں کیا جاتا۔تو یہ جو مشن ہیں یہ نا تجربہ کار نو جوانوں کو بھیج کر قائم ہوئے ہیں اور اس وجہ سے ان سے غلطیاں بھی ہوتی رہتی ہیں اور کچھ انہیں خود بخود تجربہ ہوتا جاتا ہے ار کچھ اہم اصلاح کرتے ہیں۔مگر اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام ان ممالک میں پھیل رہا ہے اور خدا کا یہ کلام پورا ہورہا ہے کہ میں تیری تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔اور ہم اس کے پورا کرنے میں محمد ہور ہے ہیں۔مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایسے عظیم الشان کام کیلئے تجربہ کار مبلغ ہی زیادہ مفید ہو سکتے ہیں مگر ایسے مبلغ ہمارے پاس ہیں نہیں۔جو مبلغ جامعہ احمدیہ سے نکلتے ہیں وہ انگریزی نہیں کی جانتے۔اسی دن کیلئے میں برابر دس سال سے اس بات پر زور دے رہا تھا کہ مبلغین کیلئے انگریزی لازمی رکھی جائے۔گو یہ دین کا حصہ نہیں مگر دین کا کام فی زمانہ اس کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔مگر افسوس ہے کہ محکموں نے میرے ساتھ تعاون نہیں کیا اور جو مبلغ نکلتے ہیں وہ اس کا چوتھا حصہ بلکہ دسواں حصہ انگریزی بھی نہیں جانتے جتنی کہ بیرونی ممالک میں کام کرنے کیلئے جاننا ضروری ہے۔اور اس لئے ہمیں ایسے کی نو جوانوں سے کام لینا پڑتا ہے جو انگریزی دان ہوتے ہیں، مگر وہ دینیات سے اچھی طرح واقف نہیں ہے ہوتے۔اس کیلئے ہم اُن کو چند کتا بیں ہی پڑھا سکتے ہیں حالانکہ یہ کافی نہیں۔باہر کئی پیچیدہ مسائل پیش آ جاتے ہیں جنہیں ایسے لوگ حل نہیں کر سکتے۔کیونکہ چند کتا بیں دینیات کی پڑھنے سے دین کے لاکھوں مسائل کا علم نہیں ہو سکتا۔اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یا تو ان کو سبکی ہوتی ہے اور یا پھر وہ غلط مسائل بتا دیتے ہیں۔یہ بات بالخصوص یورپ میں بہت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے اور پھر غلط مسائل کا نکالنا مشکل ہو جاتا