خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 599 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 599

خطبات محمود ۵۹۹ سال ۱۹۳۷ء کہ لوگوں کو ثواب سے محروم رکھا جائے۔اسی طرح مساجد کی توسیع کا کام ہے۔اس کیلئے بھی روپیہ جمعی ہے ، مکانات خریدے جاچکے ہیں۔پھر اس میں تاخیر کے کیا معنی ہیں ( مجھے بتایا گیا ہے کہ لاؤڈ سپیکر کیلئے امریکہ آرڈر دیا گیا ہے اور مسجد کی توسیع کی رقم ابھی اس قدر نہیں کہ اس کام کو شروع کیا جا سکے۔لیکن میں نے تاکید کر دی ہے کہ کام فوراً شروع کر دیا جائے۔اللہ تعالی سامان پیدا کر دے گا)۔اس کے بعد میں دوستوں کو اختصار کے ساتھ اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ تحریک جدید کے مالی حصہ کے نئے دور کا اعلان گزشتہ جمعہ میں کر چکا ہوں۔اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے میری یہ سکیم ہے کہ اس کی مالی تحریک کو سات سال کے عرصہ میں ختم کر دیا جائے اور سے درجہ بدرجہ اس طرح کم کرتے جائیں کہ آخری تین سالوں میں یہ چندہ پچاس فیصدی رہ جائے گا اور پھر سات سال کے بعد بالکل چھوڑ دیا جائے گا۔کیونکہ کوشش ہو رہی ہے کہ ایسا مستقل سرمایہ مہیا ہو جائے کہ تحریک جدید کے کاموں کیلئے کسی علیحدہ چندہ کی ضرورت ہی نہ رہے۔سوائے اس کے کہ کبھی کوئی خاص ضرورت پیدا ہو جائے۔لیکن عام ضروریات کیلئے مستقل سرمایہ ہو۔اس وقت تحریک جدید کے ماتحت ہم گیارہ بارہ مشن قائم کر چکے ہیں اور ان کا کام اس قدر کفایت سے چلایا جاتا ہے کہ ان پر اس رقم سے بھی کم خرچ ہوتا ہے جو ہمارے پرانے دو تین مشنوں پر خرچ ہوتی ہے۔ان مشنوں میں سے تین تو یورپ میں ہیں جس کے ممالک کی گرانی مشہوری ہے اور ایک امریکہ میں جہاں یورپ سے بھی زیادہ گرانی ہے۔مگر ان سب پر روپیہ اس سے بھی کم خرچ ہو رہا ہے جو پُرانے دو تین مشنوں پر ہوتا ہے اور یہ ان نوجوانوں کے تعاون کی وجہ سے ہے جو باہر گئے ہوئے ہیں اور جنہوں نے یہ وعدہ کیا ہے کہ خود تکالیف اُٹھا کر بھی دین کا کام کریں گے۔اس لئے ان چار مشنوں پر ہمارا اتنا بھی خرچ نہیں ہوتا جتنا صرف انگلستان کے مشن پر ہو رہا ہے۔انگلستان کے مشن پر قریباً سات آٹھ سو روپیہ ماہوار خرچ ہوتا ہے اور یہ بھی اب کم ہوا ہے پہلے گیارہ بارہ سو ہوتا تھا مگر ان چار مشنوں پر قریباً ۲۷۵ روپے ماہوار خرچ ہو رہا ہے۔اس میں شک نہیں کہ یہ خرچ لٹریچر کے علاوہ ہے یعنی رسالے اور کتب وغیرہ ان مشنوں کو علیحدہ مہیا کی جاتی ہیں مگر یہ خرچ انگلستان کے مشن پر بھی الگ ہوتا ہے۔اور یہ خرچ ایسا ہے کہ ہم جتنا چاہیں کر سکتے ہیں۔جتنا لٹریچر چھپوا ئیں اسی کے لحاظ سے خرچ ہوگا۔خواہ دس لاکھ کریں یا ایک سو کر یں۔جہاں تک کام کرنے والوں کا دخل ہے چار مشنوں پر صرف پونے تین کی سو روپے ماہوار کے قریب خرچ ہے۔ان میں سے ایک مشن یعنی امریکہ کا مشن تو ایسا ہے جہاں اللہ تعالیٰ