خطبات محمود (جلد 18) — Page 594
خطبات محمود مالد سال ۱۹۳۷ء مطابق کوئی جائداد دے دی جائے گی۔ لیکن میں دوستوں کو تحریک کرتا ہوں کہ وہ امانت فنڈ میں روپیہ جمع کرانے کا کام جاری رکھیں اور جو دوست ابھی تک اس میں شامل نہیں ہوئے وہ اس وقت ہی شامل ہو جائیں۔ لیکن بہر حال جو لوگ نئے شامل ہوں گے یا وہ دوست جو اپنے گزشتہ طریق عمل کو جاری رکھیں گے، انہیں مسلسل سات سال اور امانت فنڈ میں روپیہ جمع کرانا پڑے گا اور گور و پیہ پس انداز کرنا صرف سات سال یا دس سال تک ضروری نہیں ہوتا ، ساری عمر ہی انسان کو اپنا روپیہ پس انداز کرتے رہنا چاہئے۔ لیکن اس تحریک میں شامل ہونے والے کو سات سال اور اپنا رو پیدا امانت فنڈ میں جمع کرانا پڑے گا۔ اور اگر کوئی شخص سات سال تک جمع نہیں کر سکتا تو کم سے کم اور تین سال کیلئے ہی جمع کرادے۔ لیکن میری نصیحت یہی ہے کہ جن دوستوں نے امانت فنڈ کی تحریک میں شمولیت اختیار کی ہے اُنہیں چاہئے کہ اُن سے جہاں تک ہو سکے اسے جاری رکھیں ۔ مجھے افسوس ہے کہ اس فنڈ میں روپیہ کی آمد میں کمی ہوتی چلی جارہی ہے۔ پہلے سال ستر پچھتر ہزار روپیہ جمع ہوا ۔ دوسرے سال ساٹھ ہزار اور اس سال چالیس بیالیس ہزار۔ یہ کوئی یقینی اعداد و شمار نہیں ۔ مگر جو صحیح اعداد و شمار ہیں وہ اس کے قریب قریب ہیں۔ حالانکہ یہ نہایت ہی اہم فنڈ ہے اور ایک مجلس شوری کے موقع پر ایک خفیہ میٹنگ میں میں نے دوستوں پر اس کی اہمیت کو پوری طرح واضح کر دیا تھا۔ پس اس کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس کی طرف توجہ کرنی چاہئے اور اسے کسی لمحہ بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے ۔ گزشتہ احرار کے فتن میں ہمارے دشمنوں کو جو نا کامی ہوئی اس میں امانت فنڈ کا بہت بڑا حصہ ہے۔ اور اب جو نیا فتنہ اُٹھا تھا اس نے بھی اگر زور نہیں پکڑا تو در حقیقت اس میں بھی بہت سا حصہ تحریک جدید کے امانت فنڈ کا ہے ۔ پس اس امانت فنڈ میں جو دوست حصہ لے سکتے ہیں وہ ضرور لیں اور چاہے ایک روپیہ یا دو روپے ماہوار جمع کرائیں بالالتزام اس فنڈ میں روپیہ جمع کراتے جائیں ۔ اور جو پہلے ہی اس میں حصہ لے رہے ہیں وہ اسے جاری رکھیں اور سات سال اور روپیہ جمع کراتے جائیں۔ لیکن جو لوگ سات سال تک روپیہ جمع نہ کرا سکتے ہوں وہ کم از کم تین سال اور ہی اس میں حصہ لیں ۔ اور جو لوگ آئندہ اس میں شامل نہیں رہنا چاہتے اور اپنی جمع شدہ امانت واپس لینا چاہتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ یہ اطلاع دیں کہ وہ روپیہ لینا چاہتے ہیں یا جائداد لینا چاہتے ہیں ۔ اگر روپیہ کا مطالبہ کریں تو گو کوشش ہماری یہی ہوگی کہ انہیں روپیہ واپس دیا جائے لیکن اگر روپیہ نہ دیا جا سکا تو جیسا کہ میں نے پہلے بتا دیا تھا انہیں اس روپیہ کے بدلہ میں اسی قیمت کی جائداد دے دی جائے گی اور جو