خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 574 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 574

خطبات محمود ۵۷۴ سال ۱۹۳۷ء دنیا کے امتحان کے کمرہ سے اچھے پرچے کر کے نکلتا ہے تو وہ خوش ہوتا ہے اور کہتا ہے ایک رحیم ہستی میرے سامنے ہے جس نے مجھ سے بے انتہا انعامات کا اقرار کیا ہوا ہے۔اب میں اس کے پاس جاؤں گا اور اس سے انعام لوں گا۔جیسے یونیورسٹی کی ڈگریاں لینے کیلئے جب طالب علم جاتے ہیں تو وہ بھر کیلئے لباس اور گاؤن وغیرہ پہن کر جاتے ہیں۔اسی طرح وہ مومن جو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اُس کے عظیم الشان کنی فضلوں پر ایمان رکھتا ہے جب مرنے لگتا ہے تو اُس کا دل بلیوں اچھل رہا ہوتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ میں اپنے ربّ کے پاس ڈگری لینے چلا ہوں، میں اپنے رب سے انعام لینے چلا ہوں۔جب تک یہ امید انسان کے دل میں پیدا نہیں ہوتی اس وقت تک دنیا میں کبھی بھی حقیقی امن قائم نہیں ہوسکتا۔غرض انسان میں اللہ تعالیٰ نے عظیم الشان قابلیتیں رکھی ہیں اور اس کا یہ فرض مقرر کیا ہے کہ وہ ان چار صفات کا مظہر بنے۔مگر یہ کام ہو نہیں سکتا جب تک ایک نظام نہ ہو۔اسی نظام کو قائم کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کو بھیجتا ہے اور چاہتا ہے کہ ان کے ذریعہ ایسی حکومت قائم کرے جن کے افراد انہی صفات کے مالک ہوں جو اُس نے بیان کی ہیں۔پس جب تک کوئی شخص ان تمام ذمہ داریوں کو سمجھ کر مذہب قبول نہیں کرتا اُس وقت تک اس کا مذہب میں شامل ہونا یا نہ ہونا برا بر ہوتا ہے۔اور اسے بعض دفعہ ایسی ٹھو کرلگتی ہے کہ اس کی زندگی محض ایک لطیفہ بن کر رہ جاتی ہے۔تھوڑے ہی دن ہوئے میں ایک کتاب پڑھ رہا تھا کہ اس میں ایک لطیفہ آ گیا۔لکھا تھا کہ ایک شخص نے جو سخت بھوکا تھا ایک دفعہ چند لوگوں کو جو اچھے کپڑے پہنے ہوئے تھے کہیں جاتے دیکھا۔اس نے خیال کیا کہ یہ غالباً دعوت پر جارہے ہیں میں بھی ان کے ساتھ شامل ہو جاؤں۔جب یہ کھانا کھانے لگیں گے تو میں بھی وہیں سے کھانا کھالوں گا۔چنانچہ وہ ان کے ساتھ شامل ہو گیا۔جاتے جاتے وہ بادشاہ کے دربار میں پہنچے اور انہوں نے اس کی تعریف میں قصائد پڑھنے شروع کر دیئے۔تب اُسے پتہ لگا کہ یہ تو شاعر ہیں اور اپنے اپنے قصائد سنانے آئے ہیں۔چنانچہ ہر شاعر نے اپنی اپنی باری پر اُٹھ کر قصیدہ سنانا شروع کر دیا۔یہ اب سخت حیران ہوا کہ میں کیا کروں۔شعر کہنے کی اس میں قابلیت نہیں تھی مگر طبیعت لطیفہ سنج تھی۔جب سب شاعر اپنے اپنے قصائد سنا چکے اور بادشاہ سے انعام لے کر گھروں کو روانہ وگئے تو بادشاہ اُس سے مخاطب ہوا اور کہا کہ اب آپ قصیدہ شروع کریں۔یہ کہنے لگا حضور! میں شاعر نہیں ہوں۔بادشاہ نے پوچھا کہ پھر آپ یہاں کیوں آئے ہیں! وہ کہنے لگا حضور میں وہی ہوں جس کا ہو