خطبات محمود (جلد 18) — Page 572
خطبات محمود ۵۷۲ سال ۱۹۳۷ء نہیں کرتے ، تم ڈاکہ نہیں ڈالتے، تم قتل اور خونریزی کے مرتکب نہیں ہوتے اور یہی چیز ہے جو حکومت تم سے چاہتی ہے۔اسی طرح اگر تم لوگوں کا مال نہیں ٹوٹتے تو حکومت کے قانون کی نظر میں تم پر امن ہو لیکن اگر گھر میں تمہاری روزانہ لڑائی رہتی ہے تو حکومت کا کوئی قانون ایسا نہیں جو تمہیں اس لڑائی سے روکے۔لیکن کیا اس لڑائی کو دور کئے بغیر امن ہو سکتا ہے؟ اگر میاں بیوی کے تعلقات اچھے نہیں اور اگر ان تعلقات کو اچھے رکھنے کے ذرائع موجود نہیں تو دنیا کی پُر امن سے پُر امن حکومت بھی افراد کیلئے پُر امن وہ ނ نہیں ہوسکتی۔حکومت اپنے نظام سے یہ کر دے گی کہ بازاروں میں قتل و خونریزی کو روک دے، و سرحدوں پر امن قائم کرسکتی ہے مگر وہ گھروں میں امن قائم نہیں کر سکتی۔اگر دنیا میں مائیں اپنے بچوں کی اچھی تربیت نہ کریں اور بچے اپنی ماؤں سے حسن سلوک نہ کریں۔بھائی اپنی بہنوں سے محبت نہ کریں اور بہنیں اپنے بھائیوں سے عمدہ سلوک نہ کریں تو کیا کوئی حکومت ہے جو اس میں دخل دے سکے ؟ کبھی کوئی کی حکومت اس میں دخل نہیں دے گی۔مگر کیا کبھی اس کے بغیر امن قائم ہوسکتا ہے۔تم بہتر سے بہتر قانون بنا دو اور تعزیرات ہند تو کیا چیز ہے اس سے بھی اعلیٰ تعزیرات مقرر کر دو، بہتر سے بہتر افسروں کا انتخاب کرو، اعلیٰ سے اعلیٰ فوجیں تیار کر وجود شمنوں کو سرحدوں پر ہی روک دیں اور اسے آگے بڑھنے نہ دیں۔تم دیانتدار سے دیانتدار پولیس کے آدمی مقرر کر و لیکن اگر گھر میں بھائی بہن ناراض ہیں یا باپ بیٹے۔اور بیٹا باپ سے ناراض ہے، خاوند بیوی سے اور بیوی خاوند سے خفا ہے تو کوئی قانون اس نا راضگی کو دور کی نہیں کراسکتا۔اور جب تک یہ نا راضگی دور نہ ہو کوئی قانون گھروں میں امن اور دلوں میں اطمینان پیدا نہیں کر سکتا۔نہ محبت قائم ہوسکتی ہے نہ صلح اور آشتی ہو سکتی ہے۔نہ راحت میسر آسکتی ہے نہ آرام حاصل ہوسکتا ہے۔اعلیٰ درجہ کے وزرا و امراء اور افسروں کی موجودگی کے باوجود عائلی اور اہلی زندگی کی خرابی اطمینان اور امن کو مٹا دیتی ہے۔ہاں جب تربیت صحیح ہو اور اہلی اور عائلی زندگی درست ہو تو پھر یہ دونوں چیزیں مل کر ایک حد تک امن قائم کر سکتی ہیں لیکن پھر بھی پورا امن قائم نہیں ہو سکتا جب تک انسان کے اندر یہ اطمینان پیدا نہ ہو کہ میری زندگی عبث اور فضول نہیں۔بے شک تم دنیا کا نظام اعلیٰ سے اعلیٰ بنا دو، بے شک تم اپنی فوجوں کو مضبوط بنادو، بے شک اپنی طاقت کو اس قدر بڑھا لو کہ کوئی دشمن تم پر حملہ کرنے کی جرات نہ کر سکے، بے شک تمہاری پولیس نہایت ہوشیار اور فرض شناس ہو۔پھر بے شک تمہاری اہلی زندگی بھی ہر قسم کی خلش سے پاک ہو۔بیوی خاوند کی عاشق ہو تو خاوند بیوی کا، بے شک ہمسایہ ہمسایہ کی