خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 555 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 555

خطبات محمود ۵۵۵ سال ۱۹۳۷ء ہزار سال کی ہے۔اس کے بعد اگر زندہ رہے تو دیکھا جائے گا۔اسی طرح ایک اور بزرگ جو اس مقام پر تھے اُن کی نسبت لکھا ہے کہ ان کے ذمہ کچھ قرض ہو گیا۔اُن کا قرض خواہ اُن کے پاس آیا اور انہیں تنگ کرنے لگا اور فوری ادائیگی کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا بیٹھو ! ابھی خدا تعالیٰ کی طرف سے رقم آرہی ہوگی۔مگر وہ شخص مصر تھا کہ ابھی رقم دو میں انتظار نہیں کر سکتا۔اسی دوران میں ایک لڑکا گزرا جو حلوا فروخت کر رہا تھا۔اُس بزرگ نے اُسے بلایا اور اس سے ی حلوا لے کر حاضرین کو کھلایا۔حلوا کھا کر تھوڑی دیر کیلئے اس کا منہ تو بند ہوا مگر جب اس لڑکے نے کہا کہ لائیے آٹھ آنہ کے پیسے تا میں جاؤں تو اُس بزرگ نے کہا کہ تم بھی بیٹھ جاؤ اللہ تعالیٰ ابھی بھیجتا ہے۔اس پر وہ شخص کہنے لگا کہ یہ آپ نے کیا کیا ؟ میرا قرض تو دبایا ہی ہوا تھا اب اس لڑکے کا بھی دبا لیا۔اتنے میں ایک شخص آیا اس نے کاغذ میں لپٹی ہوئی نقدی دی اور کہا کہ یہ فلاں شخص نے آپ کو نذر بھیجی ہے۔اسے کھولا تو جتنا قرض تھا اُتنی ہی رقم اس میں موجود تھی مگر حلوے والے کے پیسے نہیں تھے۔اس پر اُس بزرگ نے کہا کہ تمہیں غلطی لگی ہے ، کچھ اور بھی ہے۔اس پر اُس نے کہا کہ ہاں مجھ سے غلطی ہوئی مجھے بھول گیا تھا اس کے ساتھ ایک اٹھنی بھی ہے۔تو تو کل کا یہ مقام انسانوں میں سے ہی بعض کو حاصل ہوتا ہے۔رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيم -تنظیم معاشی تنظیم تعلیم اور تربیت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔دیکھ لو ایک باپ کس طرح کھانے پینے کا بوجھ اٹھانے کے ساتھ ساتھ پچ کو تعلیم بھی دلواتا ہے اور اس کی اصلاح کا چی بھی خیال رکھتا ہے۔یہ سب استعدادیں مجموعی طور پر اللہ تعالیٰ نے انسان ہی کے اندر رکھی ہیں اور مذہب ان خفیہ استعدادوں کو جگانے کیلئے اور انہیں منظم صورت میں قائم کرنے کیلئے آتا ہے۔یہی چیز ہے جس کیلئے احمدیت کو اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے۔یہ کام ہم نے کرنے ہیں اور اگر انہیں نہیں کرتے تو اس کے صاف معنے یہ ہیں کہ ہم نے اپنے رستہ کو چھوڑ دیا ہے۔لیکن اب چونکہ وقت زیادہ ہو گیا ہے اس لئے اس مضمون کی مزید تفاصیل آئندہ خطبہ میں اِنشَاءَ اللهُ بیان کروں گا۔وَمَا تَوْفِيقِى إِلَّا بِاللَّهِ اسد الغابة جلد اصفحہ ۱۲۸۔مطبوعہ ریاض ۱۳۸۴ھ ( الفضل ۲۶ نومبر ۱۹۳۷ ء )