خطبات محمود (جلد 18) — Page 554
خطبات محمود ۵۵۴ سال ۱۹۳۷ء Seanality کی تاریخ بیان کرتے ہوئے وہ کثرت ازدواج کی طرف بھی آیا ہے۔اور پھر اس ضمن میں رسول کریم ﷺ کا ذکر بھی اُس نے کیا ہے اور عیسائی ہونے کے باوجود وہ لکھتا ہے کہ میں اُن لوگوں کو احمق سمجھتا ہوں جو آپ کے ایک سے زیادہ بیویاں کرنے پر اعتراض کرتے ہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی صفات کو اپنے اندر جذب کرنے والا شخص یقیناً ایسا کامل الخلق ہوتا ہے اور اس کے اندر ایسی طاقتیں ہوتی ہیں کہ وہ یہ بوجھ اُٹھا سکتا ہے۔کامل الخلق ہونے کے یہ معنے نہیں کہ ضرور بہت ہٹا کٹا ہی ہو بلکہ اس سے مرا دصفات حسنہ اور دل دماغ کی طاقت ہے۔پھر لا إلهَ إِلَّا هُوَ میں تو گل پایا جاتا ہے، یہ بھی لا الله پر تو ہے۔جانور میں بڑا تو کل ہوتا ہے مگر وہ انسان کے تو کل کو پھر بھی نہیں پہنچ سکتا۔چند روز ہوئے میں گھر میں کھانا کھا رہا تھا اور وہیں ایک بلی بھی پھر رہی تھی جس سے میری بیوی کے دل میں کچھ خفگی کے جذبات پیدا ہورہے تھے۔مجھے خیال آیا کہ دیکھو خدا کی قدرت ہے کہ اس نے بہت سے جاندار پیدا کئے اور ان میں سے صرف ایک کو کہا کہ میں تجھے بے انتہاء دوں گا اور باقیوں کو نہیں کہا مگر عجیب بات ہے کہ جسے کہا تھا وہ تو خدا کو چھوڑ کر اپنی محنت کرنے لگ گئے اور جن سے نہیں کہا تھا وہ تو کل کر کے بیٹھے ہیں۔پھر دوسرے نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو سب جانداروں میں سے صرف ایک ہی ہے جو کماتا ہے اور وہی ہی بھوکا مرتا ہے۔مگر یہ تو ایمان سے محروم انسانوں کی کمزوری ہے۔ورنہ حقیقت یہی ہے کہ کامل تو کل کی طاقت انسان میں ہی پائی جاتی ہے۔جانوروں میں کوئی نہیں ہوگا جو بیٹھ جائے کہ بس اب خدا ضرور بھیج دے گا۔مگر انسانوں میں ایسے ضرور ملیں گے اور ہزاروں ہوں گے جن کیلئے اللہ تعالیٰ اپنے پاس سے سامان کرتا ہے۔تو تو کل کا مقام کامل بھی انسان کو ہی ملتا ہے۔گو ہر ایک کا یہ کام نہیں کہ توکل کے مقام والے کی نقل کرے۔کہتے ہیں کوئی بزرگ تھے جو کام نہیں کرتے تھے۔دوسرے بزرگ انہیں نصیحت کرنے کیلئے آئے کہ کوئی کام بھی کرنا چاہئے۔تو کل کرنے والے تو کل کے مقام پر تھے مگر دوسرے بزرگ کا مقام دوسرا تھا اس لئے انہوں نے جب نصیحت کی تو اس بزرگ نے کہا کہ میں تو اللہ تعالی کا مہمان ہوں اور یہ میزبان کی بہتک ہے کہ اُس کا مہمان کوئی کام کرے۔دوسرے بزرگ نے کہا کہ مانا آپ مہمان ہیں مگر رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ مہمانی تین دن کی ہے۔اس کے بعد سوال ہو جاتا ہے۔یہ سن کر وہ متوکل بزرگ کہنے لگے کہ اِنَّ يَوْمًا عِندَرَتِكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ * خدا تعالیٰ کا دن قرآن کریم کے مطابق ایک ہزار سال کا ہوتا ہے۔پس مہمان نوازی کی مدت تین