خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 55 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 55

خطبات محمود ۵۵ سال ۱۹۳۷ء ڈر نہیں سکتا ۔ سچ کو چھوڑتا ہی انسان ڈر کی وجہ سے ہے خواہ وہ جان کا ڈر ہو یا مال کا یا عزت کا ۔ جو انسان ڈرتا نہیں وہ جھوٹ کبھی نہیں بول سکتا اور جو جھوٹ نہیں بولتا وہ ضرور نڈر ہو گا۔ سچائی ہمیشہ امن کا موجب اور ہوگا۔ ہی نہیں ہوا کرتی بلکہ بیسیوں مواقع ایسے آتے ہیں کہ سچائی مال و جان کیلئے ، وطن کیلئے ، رشتہ داروں کیلئے اور عزت کیلئے خطرہ کا موجب ہو جاتی ہے اور جو ان حالات میں سچائی پر قائم رہتا ہے، کون کہہ سکتا ہے کہ وہ بزدل ہے۔ سچائی اور بے خوفی اگر چہ دو علیحدہ علیحدہ خلق ہیں مگر ان کا باہم چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ جہاں سچ ہوگا وہیں بے خوفی ہوگی اور جہاں بے خوفی ہوگی وہیں سچ ہوگا۔ بے شک تم ایسی مثالیں پیش کر سکتے ہو کہ جن میں بظاہر بے خوفی ہے مگر سچ نہیں۔ لیکن اگر ذرا گہرا غور کرو تو معلوم ہو جائے گا کہ وہاں حقیقی بے خوفی نہ تھی ۔ تہو تھا مگر جرات نہ تھی ۔ ڈاکو اور چور ہمیشہ جھوٹ بولتے ہیں، قاتل قتل کرنے کے بعد جھوٹ بولتے ہیں ۔ بظاہر وہ بہادر نظر آتے ہیں لیکن اگر تم غور کرو تو در حقیقت وہ بہادر نہیں ہوتے ، بزدل ہوتے ہیں ۔ کیونکہ اس میں کیا شک ہے کہ جب ایک ڈاکو یا قاتل ڈا کہ یا قتل سے انکار کر رہا ہوتا ہے، اُس وقت وہ یقیناً ڈر رہا ہوتا ہے ۔ جب ایک ڈاکو کہتا ہے میں نے ڈاکہ نہیں ما را یا چور کہتا ہے میں نے چوری نہیں کی ، یا قاتل قتل سے انکار کرتا ہے تو اسی لئے تو کرتا ا اس ہے کہ وہ ڈرتا ہے کہ میں پکڑا نہ جاؤں اور اس صورت میں تم کس طرح کہہ سکتے ہو کہ وہ نڈ رتھا۔ کیونکہ جب ڈرنے کا موقع آیا وہ ڈر گیا ۔ پس گو بظاہر بعض مواقع پر یہ دونوں چیزیں اکٹھی نظر آتی ہیں مگر حقیقتاً یہ ظاہر بین نگاہ کی غلطی ہوتی ہے ۔ حقیقت یہی ہے کہ بے خوفی اور جھوٹ کبھی جمع نہیں ہو سکتے اور سچ اور بے خوفی کبھی جد ا نہیں ہو سکتے ۔ میں نے جماعت کے دوستوں کو نصیحت کی ہے کہ سچائی کی طرف زیادہ توجہ کریں مگر مجھے افسوس ہے کہ جو لوگ میرے مخاطب تھے اُنہوں نے ابھی تک اپنی اصلاح نہیں کی ۔ یاد رکھو کہ سچ کے معنے یہی نہیں ہوتے کہ ہر بات دوسروں کو کہتے پھر وہ ایسا کرنا تو بعض دفعہ بے حیائی ہو جاتی ہے۔ سچ کے معنے یہ ہیں کہ جو کہو درست اور صحیح کہو۔ اگر تم کسی بات کو ظاہر کرنا نہیں چاہتے تو کہہ دو کہ میں یہ ظاہر نہیں کر سکتا لیکن جب کوئی بات بتا دو تو پھر اس حقیقت کے مطابق بتاؤ جو خدا تعالیٰ سکھاتا ہے ۔ مثلاً ایک شخص لڑنے کا عادی ہے اور جھوٹ بولنے کا بھی۔ وہ تم سے جھگڑتا ہے اور کہتا ہے کہ کیا میں جھوٹ بولتا ہوں ۔ تو تم اگر اسے کہتے ہو کہ نہیں تم تو بڑے سچے آدمی ہو ، تو تم جھوٹ بولتے ہو۔ اور اگر کہہ دو کہ ہاں واقعی تم جھوٹے