خطبات محمود (جلد 18) — Page 520
خطبات محمود ۵۲۰ سال ۱۹۳۷ء سے تعلق نہ رکھتی ہو، خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے اور ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ بائیس سال پہلے اس قسم کا خیال بھی شیخ صاحب کی نسبت نہیں کیا جا سکتا تھا۔اُس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کے مستقبل کے متعلق یہ خبر دی۔یہ خواب انسانی بناوٹ نہیں ہوسکتی۔کیونکہ آخر وہ کون سا بندہ ہے جو اتنے علم کا مالک ہو کہ بائیں سال بعد میں ہونے والے واقعہ کا نقشہ کھینچ کر رکھ دے۔یہ صرف خدا کا ہی کام ہے کہ وہ غیب کا انکشاف کرے اور وہ خدا ہی تھا جس نے مجھے آج سے بائیس سال پہلے ان کے ارتداد کی خبر دی۔پس شیخ ا صاحب کو سوچنا اور غور کرنا چاہئے کہ کیا خدا تعالیٰ نے اسی کو رڈیا کے ذریعہ بائیس سال پہلے یہ بات بتائی تھی جس کو ان کے ذریعہ ہو ( نَعُوذُ بِاللهِ ) تباہ کرنے کا ارادہ کر چکا تھا۔پھر آٹھ نو سال ہوئے میں نے رویا دیکھی کہ مصری صاحب پر کوئی ابتلا آیا ہے اور ان کے دل میں بہت سے شکوک پیدا ہو گئے ہیں اور ی بعض دفعہ انہیں یہ بھی خیال آتا ہے کہ وہ قادیان سے چلے جائیں۔میں نے اس پر رویا میں ان کی دعوت کی اور انہیں نصیحت کی کہ ان باتوں کا نتیجہ اچھا نہیں، اس سے ایمان بالکل جاتا رہے گا۔چنانچہ رویا تی میں انہوں نے اقرار کیا کہ ہاں واقعہ میں میرے دل میں وساوس پیدا ہو گئے تھے اور میں چاہتا تھا کہ قادیان سے چلا جاؤں۔یہ رویا بھی جہاں تک میں سمجھتا ہوں انہیں پہنچی ہوئی ہے اور اس رویا سے بھی یہی کچ ظاہر ہوتا تھا کہ ان پر کوئی ابتلا آنے والا ہے اور ان کے دل میں ایسے شکوک و شبہات پیدا ہونے والے ہیں جن کے نتیجہ میں وہ چاہیں گے کہ قادیان سے باہر چلے جائیں۔خدا کی قدرت ہے یہ خواب بھی عجیب طریق پر پورا ہوا۔چنانچہ احباب نے ”الفضل میں ایک دوست کا بیان پڑھا ہوگا جو انہوں نے افریقہ سے لکھ کر بھجوایا کہ مصری صاحب نے ان کے سامنے یہ خواہش کی تھی کہ اگر میری لڑکی کی ملازمت کا وہاں کوئی انتظام ہو جائے تو میرا جی چاہتا ہے کہ میں بھی افریقہ چلا جاؤں۔اور گوانہوں نے کہا تھا کہ دوسال کی چھٹی لے کر مگر بہر حال قادیان کو چھوڑ کر محض دنیوی اغراض کیلئے ایک لمبے عرصہ کیلئے انہوں نے کی جانے کا اظہار کیا۔باقی رہا وساوس کا حصہ اس کو وہ خود بھی تسلیم کر چکے ہیں۔پھر ان کے ارتداد کے متعلق صرف میری ہی خوا ہیں نہیں اور بھی کئی دوستوں کی خواہیں ہیں جن میں سے بہت سی الفضل میں شائع ہو چکی ہیں اور کئی ہیں جو ابھی شائع نہیں ہوئیں۔ان میں سے ایک رویا چوہدری محمد شریف صاحب وکیل منٹگمری کا بھی ہے۔پچھلے سال کی بات ہے غالباً جون یا جولائی کا مہینہ تھا، میں اُس وقت دھرم سالہ میں تھا کہ ان کی طرف سے ایک چٹھی مجھے ملی۔جس میں مصری صاحہ