خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 519 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 519

خطبات محمود ۵۱۹ سال ۱۹۳۷ء مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب ہیں ۔ مولوی صاحب یہ کہتے ہیں کہ میں نے ان کے ارتداد کے متعلق جو رؤیا دیکھا اور جس کا میں نے انہی دنوں ذکر کر دیا تھا یہ تھا کہ شیخ صاحب کا خیال رکھا جائے وہ عیسائی ہو جائیں گے۔ مجھے جس قدر اس خواب کی تعبیر یاد ہے وہ یہی ہے کہ ان کے دین کی خرابی کے متعلق مجھے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی ۔ چنانچہ میں نے اس رویا کی بناء پر صدرانجمن احمد یہ کو توجہ دلائی کہ ان کا خاص خیال رکھا جائے ۔ مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ خواب میں یہ تھا کہ عیسائی ہونے کا خطرہ ہے۔ اگر یہ بھی ہو تب بھی عیسائی سے مراد ضرور عیسائی ہونا نہیں بلکہ عیسائیوں والی کوئی خاص صفت بھی ہو سکتی ہے۔ اور عیسائیوں کا یہ مشہور عیب ہے کہ وہ دوسرے بزرگوں پر عیب لگانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ اور ان کے مذہب کی بنیاد اس پر ہے کہ سب انبیاء بدکار تھے سوائے حضرت مسیح ناصری کے۔ شیخ صاحب کو جو ابتلا آیا ہے وہ بھی اس قسم کا ہے۔ ایک طرف وہ اپنے آپ کو عالم ربانی کہتے ہیں اور دوسری طرف مجھ پر طرح طرح کے الزام لگاتے ہیں اور اکثر حصہ جماعت کو گمراہی کی طرف جانے والا اور بدظنی کرنے والا اور بہت سوں کو دہر یہ قرار دیتے ہیں ۔ پس یہ ٹھوکر جو ان کو لگی ہے یہ عیسائیوں والی ٹھو کر ہے۔ اگر صرف مولوی سید سرور شاہ صاحب کی گواہی ہوتی تو شاید شیخ صاحب اس سے اتنا فائدہ نہ اُٹھا سکتے لیکن خدا تعالیٰ کی شان ہے کہ اس نے اس بارہ میں ایک اور آزاد گواہ بھی پیدا کر دیا ہے اور اس کا علم اس طرح ہوا کہ شیخ صاحب کے جدا ہونے پر جو جماعتوں نے ریزولیوشن بھجوائے ان میں ایک ریزولیوشن اڑیسہ کی ایک جماعت کا بھی تھا۔ اس میں وہاں کے جلسہ کی کیفیت بھی درج تھی اور اس میں ایک مقرر کی تقریر اس طرح درج تھی کہ شیخ صاحب کا ابتلا بھی ہمارے ایمانوں کو بڑھانے والا ہے۔ کیونکہ خلیفہ مسیح کی ایک خواب ان کے متعلق تھی کہ وہ مرتد ہو جائیں گے ۔ جب میں نے یہ رپورٹ پڑھی تو فوراً اُس جماعت کو خط لکھوایا کہ ان صاحب نے یہ میری خواب کہاں سے سُنی ہے ۔ اس کا جواب وہاں سے یہ آیا کہ یہ صاحب ۱۹۱۵ ء میں قادیان میں طالب علم تھے اور انہوں نے خود میرے منہ سے یہ خواب سنی تھی جبکہ میں نے بعض دوستوں کو یہ خواب سنائی تھی ۔ اس سینکڑوں میل پرے کے ایک شخص کی شہادت نے شہادت کی لڑی کو مکمل کر دیا ہے اور ہر دیانتدار کیلئے شیخ صاحب کی ٹھو کر بجائے شبہ کا موجب بننے کے زیادتی ایمان کا موجب بنتی ہے ۔ الہی سلسلوں کا یہ مسلمہ مسئلہ ہے کہ رویائے صادقہ خصوصاً ایسی رؤیا جو قیاسات یا حالات حاضرہ