خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 510 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 510

خطبات محمود ۵۱۰ سال ۱۹۳۷ء تسلیم کرنا پڑے گا کہ یا تو اس کام نے ہونا ہی نہیں اور یا پھر یہ کہ اس کام کے سرانجام دینے کیلئے خدا تعالیٰ نے ہماری کوششوں کے سوا کوئی اور ذرائع بھی مقرر فرمائے ہیں۔چونکہ یہ تو خدا تعالیٰ کا کلام ہے کہ اس کام نے ضرور ہو کر رہنا ہے۔اس لئے آخری نتیجہ پھر بھی یہی نکلتا ہے کہ اس کام کیلئے ہماری کوششوں کے مکی علاوہ کوئی اور ذرائع اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں اور جب ہم یقینی طور پر اس نتیجہ پر پہنچ جائیں تو اس کی مقصد کو پورا کرنے کیلئے جو ہمارے سامنے ہے، ہمارے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے رہیں کہ اے خدا! ہمارے ہاتھوں سے تو یہ مقصد پورا ہونے کا نہیں۔تیرے حکم کے ماتحت ہم ہر ممکن قربانی کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن تو بھی اپنے فضل سے ان مخفی ذرائع کو ظاہر کر اور ہماری تائید میں لگا دے جو تو نے اس مقصد کو پورا کرنے کیلئے مقرر فرمائے ہیں تا کہ یہ ناممکن کام ممکن ہو جائے اور ہماری خواب ایک حقیقت کی شکل میں تبدیل ہو جائے۔اصل حقیقت یہی ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے صرف ظاہری آلہ بنایا ہے ورنہ اصل آلہ کار جس سے اُس نے دنیا کو فتح کرنا ہے اور ہے۔ہماری مثال ویسی ہی ہے جیسے محمد ﷺ نے کنکر اُٹھا کر بدر کے دن پھینکے تھے۔اللہ تعالیٰ اس کے متعلق فرماتا ہے مَارَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَمَى کہ یہ تمہارا کنکر پھینکنا، تمہارا کنکر پھینکنا نہیں بلکہ خدا کا کنکر پھینکنا ہے۔اگر یہ کنکر تم پھینکتے تو ان کنکروں کا کیا تھا تھوڑی ہے دور جا کر یہ زمین پر گر پڑتے۔مگر یہ تم نے کنکر نہیں پھینکے بلکہ ہم نے پھینکے۔ادھر تمہارا ہاتھ پلا اُدھر ہم نے آندھی کو بھی ساتھ ہی چلا دیا اور اُس نے کروڑوں کروڑ اور اربوں ارب اور کنکر اُٹھا کر کفار کی آنکھوں میں ڈال دیئے۔نتیجہ یہ ہوا کہ کفار بالکل حملہ نہ کر سکے۔کیونکہ جو سوار سامنے کی طرف دیکھ ہی نہیں سکتا اس نے دشمن کا مقابلہ کیا کرنا ہے۔غرض سب حالات کو دیکھ کر ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ ہماری حیثیت بدر کے ان کنکروں کی سی ہے جنہیں محمد ﷺ نے اپنی مٹھی میں لیا اور کفار کی طرف پھینکا۔اُن کی کنکروں نے کفار کو اندھا نہیں کیا تھا جو رسول کریم ﷺ نے پھینکے بلکہ اُن کنکروں نے کفار کو اندھا کیا جو خدا تعالیٰ نے آندھی کے ذریعہ اُڑائے۔پس ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہمارے سوا کوئی اور آلہ ہے جس نے کام کرنا ہے اور کوئی اور سامان پیدا کئے گئے ہیں جنہوں نے اسلام کو دوسرے ادیان پر غالب کرنا ہے اور وہ آلہ اور وہ ہتھیار جن سے دنیا پر اسلام کو غالب کیا جا سکتا ہے بندے کی وہ دعائیں ہیں جو خدا تعالیٰ کے فضل کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں اور خدا تعالیٰ کا فضل ہی ہے جس سے ناممکن کام بھی ممکن ہو جاتے ہیں۔