خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 507 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 507

خطبات محمود ۵۰۷ سال ۱۹۳۷ء کے بقائے ان کو مجرم نہیں تو سست ضرور ثابت کرتے ہیں۔پس انہیں چاہئے کہ وعدے پورے کرنے کی طرف جلد توجہ کریں۔اسی طرح ہندوستان کی اکثر جماعتوں کے ذمہ ابھی بقائے ہیں۔انہیں چاہئے کہ وہ بتائے جلد ادا کریں۔جو شخص پہلا قدم صحیح اُٹھاتا ہے اُسے اگلا قدم بھی صحیح طور پر اٹھانے کی توفیق ملتی ہے۔اس لئے دوستوں کو چاہئے کہ اپنے بقائے صاف کریں تا اللہ تعالیٰ انہیں آئندہ اور نیکیوں کی توفیق دے آخر میں میں پھر دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنی زندگیوں کو عملی زندگیاں بناؤ۔اب خالی دعووں کا وقت گزر چکا۔ایسا نمونہ دکھاؤ کہ دشمن کے دل میں بھی یہ لالچ پیدا ہو کہ کاش ہم بھی ایسے ہی ہوں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ = یعنی کئی ان کے دفعہ کافروں کے دل میں بھی یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ یہ ایسے اچھے لوگ ہیں اور دنیا کے بہترین وجود ہیں ، کاش ہم بھی ایسے ہوتے۔یہی وہ مقام ہے جس پر پہنچ کر کامیابی حاصل ہوتی ہے۔جس دن کفار کے دل میں یہ خواہش پیدا ہو، جس دن اردگرد کے لوگ ہندو، سکھ ، غیر احمدی ہمارے اعمال ، نظام، تقوی اور صداقت کو دیکھ کر یہ خیال کریں کہ کاش ہم بھی ایسے ہوں ، اُس دن اور صرف اُس دن خدا تعالیٰ کی بادشاہت دنیا میں قائم ہوگی۔الفضل ۱۸ نومبر ۱۹۳۷ء) ۲۸ البقرة: ۱۴۹ کے بنی اسرائیل: ۲۱ الحج: ۵۳ الانفال: ۳۴ موضوعات کبیر۔ملاعلی قاری صفحه ۵۹ مطبوعہ دلی ۱۳۴۶ھ مسند احمد بن حنبل جلد ۲ صفحه ۴۳۶ مطبوعہ بیروت ۱۹۷۸ء الحجر: ٣