خطبات محمود (جلد 18) — Page 49
خطبات محمود ۴۹ سال ۱۹۳۷ء والی قوم کی مثال اُس اینٹ کی سی ہے جو سمندر میں ڈبودی جاتی ہے۔ یہ سمندر میں ڈوبتی اور کھل جاتی ہے اور دنیا کی تعمیر کے کام میں نہیں آتی لیکن وہ دیوار پر لگتی اور اُسے پہلے سے بھی زیادہ اونچا کر دیتی ہے۔ پس مومن کی قربانی ضائع نہیں ہوتی ۔ وہ کم عقلوں کی نظر میں شکست ہوتی ہے مگر حقیقت بین نگاہ میں وہ عظیم الشان فتح ہوتی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کے ہر ایثار کے نتیجہ میں ایک نیا درخت پیدا کر دیتا ہے ۔ جیسے کھیت میں غلہ بونے والے زمیندار کو جب ایک بچہ دیکھتا ہے تو سمجھتا ہے یہ زمیندار بیچ ضائع کر رہا ہے۔ مگر دنیا جانتی ہے کہ وہ بیچ ضائع نہیں ہو رہا بلکہ وہ آگے گا اور پہلے سے سینکڑوں گنے زیادہ دانے پیدا کر دے گا ۔ پس میں جماعت کے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ ان پیشگوئیوں کے مطابق اپنے اعمال کو بنائیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام میں پائی جاتی ہیں ۔ میں نے دو تین سال سے متواتر توجہ دلائی ہے کہ دوستوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات پڑھتے رہنا چاہئے تا انہیں معلوم ہوتا رہے کہ ان کا کیا انجام مقدر ہے ۔ بہت سے لوگ اپنے انجام سے ناواقف ہوتے ہیں اور نا واقف ہونے کی وجہ سے بہت سی سستیاں اور غفلتیں کر جاتے ہیں ۔ پس ان الہامات کو پڑھو جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہوئے ہیں۔ پھر دیکھو اور سوچو کہ خدا تعالیٰ نے آپ لوگوں کیلئے کیا مقدر کیا ہوا ہے اور پھر زیادہ اپنے آپ کو اس درجہ پر لانے کی کوشش کرو جس درجہ کی خدا آپ سے امید کرتا ہے۔ کیا اس سے بد قسمت شخص کوئی اور بھی ہوگا جونور کے نیچے کھڑا ہو اور پھر بھی اُس کی آنکھوں کے سامنے تاریکی ہو۔ جس کے سامنے ہر قسم کی نعمتیں پچنی ہوئی ہوں اور اسے کھانے کی توفیق نہ ہو۔ یہی حال اُس شخص کا ہے، اُس بد قسمت شخص کا ہے جس کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہ پیشگوئیاں اور الہامات موجود ہیں جو آج سے پچاس سال پہلے ایسی حالت میں بیان کئے گئے تھے جب اس جماعت کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ پھر وہ ان پیشگوئیوں کو بڑی حد تک پورا ہوتے دیکھتا ہے۔ مگر جو پیشگوئیاں پوری ہو چکیں انہی پر کھڑا ہو کر رہ جاتا ہے اور وہ پیشگوئیاں جو بہت زیادہ شاندار نتار اندار نتائج کی حامل ہیں انہیں نظر انداز کر دیتا ہے ۔ ٹھول جاتا ہے، غافل ہو جاتا ہے اور کنویں کے مینڈک کی طرح اس تھوڑی سی چیز پر ہی قانع ہو جاتا ہے اور کہتا ہو جاتا ہے اور کہتا ہے جو ملنا تھا وہ مل چکا۔ بد قسمت ہے وہ انسان ۔ کاش ! اُس کی ماں اُسے نہ جنتی تا وہ خدا تعالیٰ کی باتوں کا انکار کرنے والا نہ بنتا۔ ا النصر : ٣،٢ ( الفضل ۱۲ رفروری ۱۹۳۷ ء ) تذکرہ صفحہ ۱۰ ۔ ایڈیشن چہارم