خطبات محمود (جلد 18) — Page 486
خطبات محمود ۴۸۶ سال ۱۹۳۷ء سو میں بوڑھوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں اور جوانوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں اور بچوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں اور خصوصاً بچوں کو ہی مخاطب کرتا ہوں کیونکہ بڑوں کو جو خراب عادتیں پڑ چکی ہوں اُن کا دور ہونا بہت مشکل ہوتا ہے لیکن بچے اگر بچپن کی عمر سے ہی نیک باتیں سیکھیں اور ان کو اپنی عادت بنالیں تو ان کی تمام زندگی سنور سکتی اور سکھ اور آرام میں گزر سکتی ہے۔ یہ بات یاد رکھو کہ ایمان کی طاقت کے بعد دنیا میں سب سے بڑی طاقت عادت کی ہے۔ بیشک بڑے بھی اگر چاہیں تو ایمان کی طاقت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنی اصلاح کر سکتے ہیں ۔ لیکن ان بڑوں میں جنہیں بعض خراب عادتیں پڑ چکی ہوں یہ نقص ہوتا کہ انہیں ایمان کی طاقت کسی اور طرف کھینچ رہی ہوتی ہے اور عادت کی طاقت کسی اور طرف کھینچ رہی ہوتی ہے ۔ مگر تم اے سلسلہ کے بچو! اگر اپنی عادتوں کو آج درست کر لو گے تو تمہاری عادتیں بھی تمہیں نیک راہ پر چلا رہی ہوں گے اور تمہارا ایمان بھی تمہیں سیدھے راستہ کی طرف لے جارہا ہوگا اور اس طرح جس سفر کو تمہارے بڑے ایک دن میں طے کر سکتے ہیں اسے تم ایک منٹ میں طے کر سکو گے۔ کیونکہ تمہارے بڑوں کی مثال ایسی ہے جیسے ریل کے ایک طرف ایک انجن لگا دیا جائے اور اس کے دوسری طرف دوسرا انجن ۔ بیشک ایمان کا انجن طاقتور ہے لیکن انہیں عادت کا انجن کسی اور طرف کھینچ رہا ہے اور ایمان کا انجن کسی اور طرف ۔ اس لئے ان کی رفتار لاز ماست ہے۔ لیکن اگر تم اپنی عادتیں بچپن سے درست کر لو تو تمہارے دونوں انجن ایک ہی طرف لگے ہوئے ہوں گے۔ تمہیں ایمان کا انجن بھی اسی طرف کھینچے گا اور عادت کا انجن بھی اسی طرف کھینچے گا۔ اور تم خود ہی سمجھ سکتے ہو کہ جس ریل کے آگے دو انجن لگے ہوئے ہوں اس کی رفتار کس قدر تیز ہوگی ۔ پس میں تمہیں بھی مخاطب کرتا ہوں اور پھر عورتوں سے بھی کہتا ہوں کہ اپنے اندر تغیر پیدا کرو اور قربانیوں میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لو ۔ دنیا کمانے سے اسلام نہیں روکتا ۔ صحابہؓ نے بھی بڑی بڑی تجارتیں کیں۔ خود رسول کریم ﷺ بھی تجارت کر لیا صلى الله اللہ عروسة سال بھر تک کی کرتے تھے ۔ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے بھی تجارتیں کی ہیں ، پھر صحابہ زراعتیں بھی کرتے تھے اور رسول کریم ﷺ بھی بعض زمینوں میں کام کرواتے۔ کام کرواتے تھے اور ان کے غلہ سے سال کجا ضروریات اپنے اہل کی جمع کرا دیتے تھے۔ پھر صحابہؓ نے تو بڑی بڑی زمینداریاں اور تجارتیں کی ہیں اور بہت کچھ کمایا ہے ۔ پس تمہیں بھی دنیا کمانے سے کوئی شخص نہیں روکتا۔ ہاں یہ چیزیں تمہاری توجہ کھینچنے والی نہ ہوں بلکہ خدا کی آواز جب بھی تمہارے کانوں میں پڑے تم ان تمام زراعتوں اور تجارتوں اور