خطبات محمود (جلد 18) — Page 459
خطبات محمود ۴۵۹ ۳۱ سال ۱۹۳۷ء قربانی پیش کرنے کیلئے مشق ضروری ہے (فرموده ۲۴ ستمبر ۱۹۳۷ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- جب بڑا کام کسی قوم کے سپرد کیا جاتا ہے اسی کے مطابق اس کو کام کیلئے قربانیاں کرنی پڑتی ہیں۔بعض کاموں کی مشق خاص قربانیوں کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔جب تک اس قسم کی قربانیاں نہ کی ی جائیں وہ مشق نہیں ہوتی اور جو لوگ یہ خیال کر لیتے ہیں کہ بغیر اس مشق کے جو اس کام کیلئے ضروری ہے وہ ی اس کام کے اہل ثابت ہو جائیں گے وہ قطعی طور پر نا واقف اور جاہل ہوتے ہیں۔جب تک اس قسم کی قربانیوں میں سے نہ گزرا جائے اُس وقت تک ان کے کاموں کا بجالانا جن کیلئے ایک خاص قسم کی قربانیاں اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائی ہیں ناممکن اور بالکل ناممکن ہے۔ہماری جماعت کو اللہ تعالیٰ نے ایک ایسے زمانے میں پیدا کیا ہے جبکہ زمانہ ظاہری طور پر پُر امن ہے۔میں نے ظاہری طور پر پُر امن کے الفاظ اس لئے استعمال کئے ہیں کہ بالعموم اس زمانہ میں عَلَى الْإِعْلان لڑائیاں نہیں کی جاتیں۔تلوار اور بندوق لے کر ایک ملک دوسرے ملک پر اور قو میں قوموں پر اور گھرانے گھرانوں پر حملہ نہیں کرتے ، ور نہ ظلم اب بھی ہوتے ہیں قتل اور خونریزیاں اب بھی ہوتی ہیں مگر ایک حد تک قانون ان کے رستہ میں ނ روک بنا رہتا ہے۔گو بعض جگہ قانون بھی ناکام رہتا ہے۔کسی جگہ ایسا افسر آ جاتا ہے جسے ظالموں۔ہمدردی ہوتی ہے اور وہ درگرز سے کام لیتا ہے۔کبھی کسی جگہ پولیس مقدمات کو خراب کر دیتی ہے گواہوں کو ڈرا دیتی ہے، بدلوادیتی ہے، بھگا دیتی ہے، مگر یہ کوئی عام قانون نہیں۔عام طور پر حکام لڑائیوں،