خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 45

21 خطبات محمود لده سال ۱۹۳۷ء تو دنیا میں کامیابی محنت اور کام کرنے سے ہی حاصل ہو سکتی ہے ۔ محنت کے بغیر نیکی کی مشق بھی نہیں ہو سکتی ۔ بورڈ نگ تحریک جدید کے قیام سے میری غرض یہی ہے کہ چند نوجوان ایسے پیدا ہوں جو محنت کے عادی ہوں اور پھر وہ بیج کا کام دیں اور ان کے ذریعہ ساری قوم میں یہ عادت پیدا کی جاسکے ۔ اس لئے میں پھر نصیحت کرتا ہوں کہ محنت کی عادت ڈالو بیکاری کی عادت کو ترک کر دو ۔ فضول مجلسیں بنا کر گپیں ہانکنا اور بکواس کرنا چھوڑ دو ۔ حقہ اور دیگر ایسی لغو عادتوں میں وقت ضائع نہ کرو اور کوشش کرو کہ زیادہ سے زیادہ کام کر سکو۔ یا د رکھو کہ ہمارے لئے بہت نازک وقت آ رہا ہے ۔ اس وقت ہندوستان میں نیا آئین نافذ ہو رہا ہے جس کے نتیجہ میں انگریزی اثر ملک سے کم ہو جائے گا اور تم جانتے ہو کہ دیہات میں اب بھی تمہارے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے ۔ جن لوگوں پر احمدیوں کے احسان ہوتے ہیں اور جواحمد یوں پر احسان کرتے ہیں اور باہم بہت اچھا سلوک ایک دوسرے سے کرتے ہیں ، وہاں ایک مولوی آکر تقریر کر دیتا ہے اور وہی لوگ بھڑک اٹھتے ہیں ۔ پس ان حالات کے آنے سے پہلے اپنی اصلاح کرلو۔ محنت اور قربانی کی عادت ڈالو۔ ورنہ تمہاری حالت اس بھیڑ کی سی ہوگی جو ہر وقت بھیڑیئے کے رحم پر ہے۔ جب تک ہمت کوشش اور استقلال سے اپنے آپ کو شیروں میں تبدیل نہیں کر لیتے ، اس وقت تک تم بھیڑیں ہو جن کی جانیں ہر وقت غیر محفوظ ہیں۔ خدا تعالیٰ نے تمہیں اختیار دے دیا ہے کہ اگر چاہو تو شیر بن جاؤ جو جنگل میں اکیلا بھی محفوظ ہوتا ہے لیکن بھیڑیں دس بیس بھی غیر محفوظ ہوتی ہیں ۔ پس اس کیلئے کوشش کرو اور دعاؤں میں لگے میں غیر ہیں۔ رہو۔ میں بھی دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں لغو عادتوں کو دور کرنے کی توفیق دے اور توفیق دے کہ تم محنتی اور بہت کام کرنے والے بن جاؤ۔ اپنے اوقات کو خدا تعالیٰ کے دین کیلئے خرچ کرنے والے ہو جاؤ تا تھوڑے ہو کر بہتوں پر غلبہ حاصل کرنے والے بن سکو۔ ہوکر النزعت : ۳ الضحى: ۱۲ ( الفضل ۳ فروری ۱۹۳۷ء )