خطبات محمود (جلد 18) — Page 446
سال ۱۹۳۷ء خطبات محمود رکھے ہیں، کچھ شکوک رکھے ہیں، کچھ مشبات رکھے ہیں تا وہ مجبور ہوکر نبوت کی چمنی اس نور پر رکھیں۔چنانچہ جب بھی الہی نور پر نبوت کی چمنی رکھی جائے اس نور کی حالت یکدم بدل جاتی ہے اور یا تو وہ کو دینے والا دھواں نظر آ رہا تھا اور یا یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ نور ہی نور ہے اور اس میں دُھویں کا نشان تک نہیں۔پھر جب اس روشنی کو اُٹھا کر ہم طاقچہ میں رکھ دیتے ہیں تو پہلے سے بہت دور دور اس کی روشنی پھیل جاتی ہے۔غرض یہ آیت ہے جو مجھے بتائی گئی اور مجھے سمجھایا گیا کہ اس میں الوہیت ، نبوت اور خلافت کا جوڑ بتایا گیا ہے۔اگر کوئی کہے کہ آخر خلافت بھی تو ختم ہو جاتی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ خلافت کا ختم ہونا یا نہ ہونا تو انسانوں کے اختیار میں ہے۔اگر وہ پاک رہیں اور خلافت کی بے قدری نہ کریں تو یہ طاقچہ سینکڑوں ہزاروں سال تک قائم رہ کر ان کی طاقت کو بڑھانے کا موجب ہو سکتا ہے۔اور اگر وہ خود ہی اس انعام کو ر ڈ کر دیں تو اس کا علاج کسی کے پاس نہیں ہے۔اللَّهُ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ والی آیت کا مضمون مختصر ابتانے کے بعد میں اب یہ بتا تا ہوں کہ کس طرح یہ تمام سورۃ اسی ایک مضمون کے ذکر سے بھری ہوئی ہے اور اس کی کوئی آیت ایسی نہیں جس میں اسی مضمون کے مختلف پہلوؤں کو بیان نہ کیا گیا ہو۔اس سورہ نور کو اللہ تعالیٰ نے بدکاری اور بدکاری کے الزامات لگانے والوں کے ذکر سے شروع کیا ہے اور اس کی تفصیلات بیان کرنے کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر جو الزام لگا تھا اُس کا کی ذکر کرتا ہے۔پھر اور بہت سی باتیں اسی کے ساتھ تعلق رکھنے والی بیان کرتا ہے اور مسلمانوں کو نصیحت کرتا ت ہے کہ انہیں ایسے مواقع پر کن کن باتوں پر عمل کرنا چاہئے۔پھر وہ ذرائع بیان کرتا ہے جن پر عمل کرنے سے بدکاری دنیا سے مٹ سکتی ہے۔یہ تمام مضامین اللہ تعالیٰ نے پہلے دوسرے اور تیسرے رکوع میں کی بیان کئے ہیں۔چنانچہ دیکھ لو پہلا رکوع ان آیات سے شروع ہوتا ہے سُوْرَةٌ اَنْزَلْنَهَا وَفَرَضْهَا وَ أَنْزَلْنَا فِيْهَا ايتٍ بَيِّنَتٍ لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ - اَلزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةً کے یہ مضمون چلتا چلا جاتا ہے۔پھر آگے فرماتا ہے وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةٍ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمْنِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوالَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا وَأُولئِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ ٨ زنا کا الزام لگانے والوں کا ذکر اور ان کی سزا کا بیان کیا ہے۔پھر فرماتا ہے۔اِلَّا لَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذلِكَ وَاَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ اس کے بعد وَالَّذِينَ يَرْمُونَ اَزْوَاجَهُمُ میں ان