خطبات محمود (جلد 18) — Page 434
خطبات محمود ۴۳۴ سال ۱۹۳۷ء جاؤ ( اب یہ جوا گلا حصہ ہے یہ خواب کا نہیں بلکہ بطور تشریح میں خود بیان کر رہا ہوں ) تمہیں کہیں یہ نظر نہیں آئے گا کہ اللہ تعالیٰ کا وجود بغیر انبیاء کے دنیا میں قائم ہوا ہو۔حالانکہ انبیاء بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے کلام سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وجود ہر وقت موجود ہے اور اُس کا نور ہر چیز سے ظاہر ہے۔مگر باوجود اس کے کہ اُس کا نور دنیا کی ہر چیز سے ظاہر ہو رہا ہے، پھر بھی انبیاء ہی ہیں جو اسے ایسی طرز پر ظاہر کرتے ہیں کہ لوگ اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔رسول کریم ﷺ کی بعثت سے پہلے کیا خدا نہیں تھا۔خدا اُس وقت بھی اسی طرح آسمان سے ظاہر ہو رہا تھا، اسی طرح زمین سے ظاہر ہو رہا تھا ، اسی طرح دریاؤں سے ظاہر ہو رہا تھا ، اسی طرح فضا سے ظاہر ہو رہا تھا، اسی طرح پاتال سے ظاہر ہورہا تھا جس طرح رسول کریم اللہ کے زمانہ میں ظاہر ہوا۔پھر پہلے زمانہ اور رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں فرق کیا تھا؟ فرق یہی تھا کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کے نور کے ظہور کیلئے کوئی ذریعہ موجود نہیں تھا۔ایک آئینہ تھا مگر اس آئینہ کے ساتھ وہ قلعی نہیں تھی جو اسے روشن کر کے لوگوں کی نظروں کے قابل بنا دیتی۔جب رسول کریم ﷺ نے اس شیشے کو اپنے ہاتھ میں پکڑا تو و جس طرح آئینہ کے پیچھے جب قلعی کھڑی کر دی جاتی ہے تو آئینہ کو ایک خاص شکل مل جاتی ہے اور اس میں دوسروں کی بھی شکلیں نظر آنے لگ جاتی ہیں، اسی طرح ساری دنیا کو خدا نظر آنے لگ گیا اور اس کے لی وجود کا اسے احساس ہو گیا۔ورنہ شیشہ جتنا زیادہ مصفی ہو اتنا ہی لوگوں کو کم نظر آیا کرتا ہے۔کئی دفعہ جب اعلیٰ درجہ کے شیشے دروازوں سے لگائے جاتے ہیں تو بعض دفعہ لوگ ان دروازوں سے ٹھوکر کھا جاتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ رستہ کھلا ہے حالانکہ وہ آئینہ ہوتا ہے اور رستہ بند ہوتا ہے۔رات کے وقت جب کمرہ میں روشنی ہو تو اُس وقت انسان کیلئے یہ معلوم کرنا بہت مشکل ہوتا ہے کہ منافذ میں شیشہ موجود ہے یا نہیں۔بعض دفعہ شیشہ لگا ہوا ہوتا ہے اور انسان اس کے بعد زیادہ مصفے ہونے کی وجہ سے سمجھتا ہے کہ شیشہ میں کوئی نہیں۔اور بعض دفعہ شیشہ نہیں ہوتا اور وہ خیال کرتا ہے کہ شیشہ ہے۔پس شیشہ جتنا زیادہ مصفی ہواُتنا ہی لوگوں کو کم نظر آتا ہے۔مگر انبیاء علیہم السلام کے ذریعہ خدا تعالیٰ کا وجود جو نہایت ہی مخفی اور وراء الوراء ہے اسی طرح لوگوں کو نظر آنے لگ جاتا ہے جس طرح شیشہ کے پیچھے جب قلعی کھڑی کر دی جائے تو وہ شکلیں دکھانے کے قابل ہو جاتا ہے۔یہ مضمون ہے جو رویا میں میں نے بیان کیا اور اسی مثال پر میری تقریر ختم ہو گئی۔میں نے روبہ