خطبات محمود (جلد 18) — Page 423
خطبات محمود ۴۲۳ سال ۱۹۳۷ء کو قید نہ کر دے۔پس اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کو دیکھتے ہوئے ہم کس طرح تسلیم کر سکتے ہیں کہ وہ لوگ جوا کثریت کو چھوڑ کر اپنے لئے ایک نئی راہ تجویز کر رہے ہیں، خواہ وہ اپنا نام احمد یہ اشاعت اسلام رکھیں یا مجلس احمد یہ رکھیں یا کوئی اور نام اپنے لئے تجویز کر لیں وہ خدا تعالیٰ کی کچی جماعت نہیں۔کیونکہ وہ تو اپنے عمل سے اور اپنے قول سے ان الہامون کو جھوٹا کر رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر نازل فرمائے۔بلکہ وہ یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ سنت قدیمہ جو ہر نبی کے زمانہ میں ظاہر ہوئی اور ایک نبی بھی ایسا نہیں گذرا جس کے زمانہ میں وہ ظاہر نہ ہوئی ہو وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ظاہر نہیں ہوئی اور اگر ان کی یہ بات درست ہو تو فَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا - وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللهِ تَحْوِيلًا کے دوز بر دست قاعدوں کے مطابق تو نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے دعوی میں راستباز نہ تھے۔کیونکہ جو خدا تعالیٰ کا قانون ہر راستباز کیلئے ظاہر ہونا ضروری ہے وہ آپ کیلئے ظاہر نہیں ہوا۔شاید بعض لوگ کہہ دیں کہ ان کی اقلیت عارضی وقفہ ہے پھر جماعت کی اکثریت ان کیسا تھ مل جائے گی اور حق پر قائم ہو جائے گی۔مگر یادر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب بھی دے دیا ہے جو یہ ہے ه وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللهِ تَحْوِيلًا یعنی اس سنت کا ظہور اپنے وقت پر اور تسلسل اور تو اتر کے ساتھ ضروری ہے وہ پیچھے بھی نہیں ہٹ سکتی اور اس میں رخنہ بھی نہیں پڑ سکتا۔پس اگر یہی تسلیم کر لیا جائے کہ یہ کسی وقت جماعت پر غالب آجائیں گے اور جماعت کو اپنا ہم خیال بنالیں گے تب بھی تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ایک خاصہ لمبا زمانہ اس سنت اللہ کے ظہور سے خالی رہا اور مقاصد عالیہ کے پورا ہونے سے پہلے جماعت کی اکثریت باطل اور ناراستی پر قائم ہوگئی۔حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللهِ تَحْوِيلًا۔یعنی اس سنت میں وقفہ بھی نہیں پڑتا۔اگر وقفہ بھی پڑ جائے تب بھی وہ مدعی جس کے زمانہ میں وقفہ پڑے خدا تعالیٰ کی طرف سے قرار نہیں دیا جائے گا اور یہ تسلیم کیا جائے گا کہ خدا تعالیٰ کی سنت کی اس کے حق میں پوری نہیں ہوئی۔اس سنت کو جس طرح اللہ تعالیٰ نے پہلی جماعتوں کے حق میں ظاہر کیا ہے وہ ایک ایسی کھلی دلیل ہیں کہ سوائے ایک ازلی نابینا کے کوئی شخص اس دلیل کو دیکھنے سے محروم نہیں رہ سکتا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کا حال دیکھ لو، وہ ہمارے سامنے ہے۔قرآن کریم میں ان کے متعلق آتا ہے کہ جب ایک عظیم الشان جنگ کیلئے اُن کو بلایا گیا تو انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جواب