خطبات محمود (جلد 18) — Page 413
خطبات محمود ۴۱۳ سال ۱۹۳۷ء ہیں کہ انعامات کی تقسیم میں ہمارے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا۔اور یہ دونوں بے ایمانی کے طریق ہیں اور یہ دونوں کفر کی چوکھٹ پر انسان کو لے جاتے ہیں اور میں نے جیسا کہ بتایا ہے ان دونوں وسوسوں کا علاج اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں بتا دیا گیا ہے اور مسلمانوں کو کی سمجھا دیا گیا ہے کہ ان دو چیزوں میں سے کوئی بھی پیدا ہوئی تو تم مغضوب بن جاؤ گے۔پھر اس کے کی مقابل کی جو حالت ہوتی ہے وہ ضال والی حالت ہوتی ہے یعنی جس کو انعام مل جاتا ہے وہ بعض دفعہ ایسی کی غلو والی محبت شروع کر دیتا ہے کہ اس کے نتیجہ میں ضال بن جاتا ہے۔گویا جس کو کچھ نہیں ملتا وہ ٹھوکر کھا کر مغضوب بن جاتا ہے اور جس کو کچھ ملتا ہے وہ بعض دفعہ ایسی ٹھو کر کھاتا ہے کہ ضال بن جاتا ہے۔ہاں وہ جو اپنے ہوش و حواس کو قائم رکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اگر سلسلہ کے کاموں میں سے فلاں کام میرے سپرد نہیں کیا گیا یا میرے ہاتھ فلاں عہدہ کے حصول تک نہیں پہنچ سکے تو یہی میرے لئے مفید ہوگا۔اور اگر واقعہ میں میں کسی انعام کا مستحق ہوا تو اللہ تعالیٰ اس کیلئے غیب سے اور سامان پیدا کر دے گا اور اور راستے میرے لئے کھول دے گا۔وہ نہ مغضوب بنے گا نہ ضال بلکہ دائمی ترقی کرتا چلا جائے گا کیونکہ وہ ہمیشہ دعا مانگتا رہے گا کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ اور ہمیشہ اسے انعامات ملتے رہیں گے۔اور اگر کسی وقت اس دعا کے باوجود خدا تعالیٰ اسے انعام نہ دے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ نَعُوذُ باللہ خدا تعالیٰ کے خزانے خالی ہیں حالانکہ وہ کبھی خالی نہیں ہوتے۔غرض غیر محدود ترقیات کیلئے یہ دو یقین اپنے اندر پیدا کرنے نہایت ضروری ہیں۔اول یہ کہ خدا کبھی انسانی ترقیات کے دروازے بند نہیں کرتا اور اگر بظاہر یہ نظر آتا ہو کہ ترقی کا فلاں دروازہ ہمارے لئے بند ہو گیا تو اس کی جگہ ایک اور دروازہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ضرور کھلا ہو ا ہو گا۔دوسرے یہ کہ جب ایک انعام کسی شخص کو نہیں ملتا تو وہ سمجھ لے کہ یہ انعام یقیناً اس کیلئے مقدر نہیں تھا بلکہ کوئی اور انعام اس کیلئے مقدر ہو گا۔اور اس کیلئے جیسا کہ سورۂ فاتحہ میں ہدایت کی گئی ہے بغیر کسی تعیین کے خدا تعالیٰ کی سے دعا مانگے اور اس سے کہے الہی ! ہم تجھ سے دعا کرتے ہیں کہ تو ہمیں اپنے پاس سے وہ انعامات دے جو ہمارے مناسب حال ہوں اور جن کو تُو نے ہمارے لئے مقدر کر رکھا ہو۔اگر ہمارے لئے موسوی جام مقدر ہے تو وہ دے، عیسوی جام مقدر ہے تو وہ دے، داؤدی جام مقدر ہے تو وہ دے، سلیمانی جامی مقدر ہے تو وہ دے، رامچندری جام مقدر ہے تو وہ دے کرشنوی جام مقدر ہے تو وہ دے۔ہمیں کچھ علم ہے