خطبات محمود (جلد 18) — Page 381
خطبات محمود ۳۸۱ (۲۸) سال ۱۹۳۷ء فتنوں سے بچنے کیلئے سورہ فاتحہ میں علاج بتایا گیا ہے (فرموده ۳ ستمبر ۱۹۳۷ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- سورہ فاتحہ ایک ایسی کامل سورۃ ہے کہ جس میں ہر مرض کا کا علاج موجود ہے اور ہر زمانہ کے شرور اور فتن کا ذکر اس میں پایا جاتا ہے اور ہر قسم کی روکیں جو انسانی ترقی کے راستہ میں حائل ہوتی ہیں یا وہ اسباب جو خدا تعالیٰ کے قرب سے اسے دور کر دیتے ہیں ان کے ازالہ کے ذرائع اور ان سے بچنے کے سامانوں کا ذکر اس میں کیا گیا ہے۔ جس طرح قرآن کریم ایک انڈیکس اور فہرست ہے اللہ کے ان قوانین کی جو اس تمام کائنات کو چلا رہے ہیں اسی طرح سورۂ فاتحہ فہرست ہے قرآن کریم کے مضامین سورۂ ہے کی ۔ جس طرح ایک زکی انسان محض فہرست پڑھ کر اصل کتاب کے مضامین سے آگاہ ہو جاتا ہے اسی طرح ایک ز کی انسان محض فہرست پڑھ کر اصل کتاب کے منہ زکی پڑھ طرح قرآن کریم سے تعلق رکھنے والا انسان سورۂ فاتحہ پڑھ کر قرآن مجید کے تمام مضامین سے آگاہ ہو جاتا ہے۔ اور پھر قرآن مجید پڑھ کر جو اللہ تعالیٰ کے ان قوانین کی فہرست ہے جو تمام کائناتِ عالَم کو چلا رہے ہیں اس کے قوانین قدرت سے آگاہ ہو جاتا ہے ۔ چونکہ موجودہ زمانہ کئی قسم کے فتن کا زمانہ ہے اس لئے میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ فتنوں کے زمانوں کے متعلق قرآن کریم میں بعض احکام بیان کئے گئے ہیں اور بعض ایسی تدابیر بتائی گئی ہیں جن کو اختیار کر کے انسان رفتن سے محفوظ ہو جاتا ہے ۔ بالخصوص سورۂ فاتحہ میں اصولی طور پر اللہ تعالیٰ نے فتن کی تفصیلات بتائی ہیں اور ان سے بچنے کا علاج بھی بتایا ہے ۔ مگر ہماری جماعت