خطبات محمود (جلد 18) — Page 37
خطبات محمود ۳۷ سال ۱۹۳۷ء سے بچ جائیں اور اپنی بچی ہوئی کمائی چندوں کیلئے دے دیں تو کتنی بڑی دین کی خدمت ہوگی۔اگر ایک یتیم کو روٹی دے دینا بڑی خوبی کی بات ہے، اگر ایک یتیم کو پیسے دے دینا بڑی خوبی کی بات ہے تو ایک یتیم اور بیکس کو ہنر سکھا دینا جس سے وہ ساری عمر روٹی کما سکے کیوں نیکی کی بات نہیں۔اور اگر کام سیکھ کر وہی اس قابل بن جائے کہ نہ صرف خود اپنا پیٹ پالے بلکہ چندہ بھی دے تو یہ اور بھی زیادہ اچھی بات ہے اور ی میں نے تو سکیم ہی ایسی رکھی ہے کہ دین سیکھنے کے کام بھی اس میں شامل ہیں۔چنانچہ ان سکولوں میں قرآن شریف پڑھایا جاتا ہے اور دین کی بعض اور کتابیں بھی پڑھائی جاتی ہیں تا کہ جب یہاں ترکھان نکلیں تو صرف ترکھان نہ ہوں بلکہ مولوی ترکھان ہوں اور یہاں سے لو ہار نکلیں تو صرف لوہار نہ ہوں بلکہ مولوی لوہار ہوں اور موچی نکلیں تو صرف موچی نہ ہوں بلکہ مولوی موچی ہوں۔پس یہ تو نُورٌ عَلی نُورٍ والی بات ہے کہ نہ صرف یہ کہ وہ ساری عمر کیلئے روٹی کما سکتے ہیں بلکہ وہ دینی معلومات بھی رکھتے ہوں گے اور مخالفین کو تبلیغ بھی کرسکیں گے۔ایسے مفت کے مولوی مل جانا اور ایسے مفت کے مولوی تیار کرنا دین کی سب سے بڑی خدمت ہے۔بھلا کونسی ایسی جماعت ہے جو ہماری جماعت کی طرح غریب ہو اور پھر وہ ہزاروں مبلغ رکھ سکے۔زیادہ سے زیادہ پچاس سو کو ملازم رکھا جا سکتا ہے مگر تبلیغ کیلئے تو ہزاروں مبلغ چاہئیں اور وہ ہزاروں اسی طرح میسر آ سکتے ہیں کہ پیشے سکھانے کے ساتھ ساتھ انہیں دین کی بھی واقفیت کرائی جائے تا جب وہ مسجد میں جائیں تو واعظ بن جائیں ، جلسوں میں جائیں تو مبلغ بن جائیں اور دُکان میں جائیں تو لوہار اور ترکھان بن جائیں۔یہی وہ لوگ ہیں جن کی آج کی دین کو ضرورت ہے۔اگر یہ بے دینی ہے تو خدا کرے یہ بے دینی اور بھی ہمیں میسر آئے اور مولوی محمد علی صاحب دعا کریں کہ یہ بے دینی اُن کی قوم کو کبھی میسر نہ آئے۔پس میں دوستوں کو مولوی محمد علی صاحب کے اس اعتراض کی طرف توجہ دلاتے ہوئے پھر کہتا ہوں کہ اپنے اندر سے بیکاری دُور کرو۔ہم نے یہاں جو کام شروع کیا ہے وہ محدود پیمانہ پر شروع کیا ہے لیکن اگر مختلف پیشہ ور قربانی کریں اور وہ اپنے اپنے گاؤں کے غریبوں ، تیموں اور ناداروں کو اپنے ساتھ شامل کر کے انہیں پیشہ سکھا دیں یا کسی نادار بیوہ یا بیکار بوڑھے کے بچے کو لے لیں اور اُسے ہٹنر سکھائیں اور ثواب کی نیت سے کام کے ساتھ ساتھ انہیں دین کی باتیں بھی سکھلاتے رہیں تو اس ذریعہ ی سے بھی وہ سلسلہ سے بیکاری دور کر کے بہت بڑا ثواب حاصل کر سکتے ہیں۔اسی طرح وہ لوگ جن کے