خطبات محمود (جلد 18) — Page 363
خطبات محمود جاسکتی ہے۔الله ۳۶۳ سال ۱۹۳۷ء غرض قرآن کریم کے ایک ایک حرف اور ایک ایک حرکت اور ایک ایک نقطہ کے نیچے سے ہم نے معارف کے خزانے نکالے اور انہیں دنیا کے سامنے پیش کیا اور محمد ﷺ کی عزت عالم میں قائم کی۔یہاں تک کہ اسلام کا شدید سے شدید دشمن بھی آج یہ تسلیم کرنے لگ گیا ہے کہ روحانی میدان میں محمد ے جیسا پہلوان اور کوئی نہیں ہوا۔پس وہ جنہوں نے رسول کریم ﷺ کی حقیقی شان دنیا میں قائم کی، وہ جنہوں نے اسلام کی سچی خدمت کی ، وہ جنہوں نے اسلام کی تعلیم پر عمل کر کے دنیا کو دکھا دیا اور ثابت کر دیا کہ اسلام کی تمام تعلیمیں قابل عمل ہیں اور انہی پر عمل کرنے میں ہر برکت اور سعادت ہے ان کے متعلق یہ کہنا کہ وہ اپنے خلیفہ کو رسول کریم ﷺ سے بڑا سمجھتے ہیں اس سے زیادہ جھوٹ اور اس سے زیادہ غلط بات اور کیا ہو سکتی ہے۔میں ایسے اخبار نویسوں کو کہتا ہوں کہ مذہبی اختلاف کو جانے دو تم کم از کم انسانیت اور شرافت کا پاس رکھو اور اسے اپنے ہاتھ سے نہ دو۔ہمارے تمہارے اختلاف بھی ہیں، لڑائیاں بھی ہیں ، جھگڑے بھی ہیں مگر ان لڑائیوں اور جھگڑوں میں جھوٹ بولنے سے کیا فائدہ اور کسی کی طرف وہ عقائد منسوب کرنے سے کیا حاصل جن کو وہ مانتا ہی نہیں۔پھر میں کہتا ہوں کہ اگر وہ بچے دل سے یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے دلوں میں رسول کریم ہی اللہ کی ہم سے زیادہ عزت ہے تو میں انہیں چیلنج کرتا ہوں کہ وہ اپنے علماء کو تیار کریں اور تر اضئی فریقین سے ایک تاریخ مقرر کر کے وہ بھی رسول کریم ﷺ کی عظمت پر مضامین لکھیں اور ایک مضمون رسول کریم ہے کی عظمت پر میں بھی لکھوں گا پھر دنیا خود بخود دیکھ لے گی کہ ان کے دس ہیں لکھے ہوئے مضامین میرے ایک مضمون کے مقابلہ میں حقیقت رکھتے ہیں اور رسول کریم میہ کے فضائل اور آپ کے محاسن میں بیان کرتا ہوں یا وہ مولوی بیان کرتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں نے رسول کریم میں اللہ کی عظمت پر کبھی غور ہی کی نہیں کیا۔ان کا بے شک رسول کریم ﷺ پر ایمان ہے مگر ان کا ایمان ایمان العجائز سے بڑھ کر نہیں۔یعنی انہوں نے اپنے باپ دادوں سے جیسائنا و لسا مان لیا۔یا چونکہ وہ مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہوئے تھے اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ماننے لگ گئے اور نہ انہوں نے نہ کبھی قرآن پر غور کیا ہے اور نہ رسول کریم ﷺ کے کلام پر کبھی غور کیا ہے۔اگر ان لوگوں نے قرآن مجید کو غور سے پڑھا ہوتا تو حضرت مریم علیہا السلام کے متعلق وَاصْطَفَكِ عَلَى نِسَاءِ الْعَلَمِيْنَ اور اسی طرح بنی اسرائیل کے