خطبات محمود (جلد 18) — Page 36
خطبات محمود ۳۶ سال ۱۹۳۷ء انہوں نے اس کام کو پہلے شروع کیوں نہیں کیا۔اب چونکہ وہ ان کاموں کو خود ہم سے پہلے شروع نہیں کر سکے اس لئے حسد میں آکر ہمارے کاموں کو بے دینی پرمحمول کرنے لگ گئے ہیں۔لیکن پانچ دس سال نہیں گزریں گے کہ وہ خود یہی کام کرنے لگ جائیں گے اور اُس وقت اِس کا نام ایمانداری اور نہایت اعلیٰ درجہ کی اسلامی خدمت رکھیں گے اور اگر انہوں نے پانچ دس سال کے بعد کوئی ایسا کارخانہ جاری کر دیا جو ہمارے ہاں نہ ہوا تو پھر تو وہ ہمیشہ ہماری جماعت کے افراد پر یہ طنز کرتے رہیں گے کہ دیکھا ہم کیسے منظم ہیں ہم نے وہ کارخانے جاری کر رکھے ہیں جو تمہارے ہاں جاری ہی نہیں۔پس یہ محض تھو کھٹے والی بات ہے چونکہ انہوں نے آپ اس کام کو ابھی تک شروع نہیں کیا اس لئے یہ بات بُری ہوگئی۔مگر مومن اعتراضات سے نہیں ڈرا کرتا۔مومن کا کام یہ ہے کہ وہ بیکا ر نہ رہے اور ی جماعت کا کام یہ ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ بیکاری اپنے اندر سے دور کرنے کی کوشش کرے۔ہم اپنے کی اندر سے جتنی بیکاری اس وقت معذوری کی وجہ سے دور نہیں کر سکتے اس کے متعلق ہم خدا تعالیٰ کے حضور بری ہیں لیکن اگر ہم بریکاری کو دور کر سکتے ہوں اور پھر اپنی غفلت کی وجہ سے بریکاری دور نہ کر سکیں تو یقینا ہم خدا تعالیٰ کے حضور مجرم ہوں گے۔کیونکہ مومن کا بیکار رہنا خدا تعالیٰ کبھی پسند نہیں کرتا۔لیکن چونکہ تمام لوگ صرف ایک ہی کام یعنی دین کی خدمت نہیں کر سکتے اس لئے ضروری ہے کہ ایک حصہ دنیا کے کاموں کی پر لگا ہوا ہو۔قرآن کریم میں ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ ممکن نہیں کہ تم سارے کے سارے دین کی خدمت کیلئے اپنے آپ کو وقف کر سکو اس لئے ہر جماعت میں سے کچھ لوگ ایسے ہونے چاہئیں جو کلی طور پر دین کی خدمت کیلئے وقف ہوں اور جو باقی رہ جائیں وہ اپنے کام کے ساتھ ساتھ لوگوں کو تبلیغ کرتے جائیں۔اگر کوئی ترکھان ہو تو وہ ترکھانے کے کام کے ساتھ تبلیغ بھی کرتا جائے اگر لو ہار ہو تو لوہارے کے کام کے ساتھ تبلیغ بھی کرتا جائے ، اگر درزی ہو تو درزی کے کام کے ساتھ ہی تبلیغ بھی کرتا رہے اور اگر موچی ہوتو موچی کے کام کے ساتھ ہی تبلیغ بھی کرتا رہے۔پس ساری جماعت کبھی بھی تبلیغ میں نہیں لگ سکتی اور اسلامی تعلیم یہی ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہونے چاہئیں جو گلی طور پر دین کیلئے وقف ہوں اور جو باقی ہوں وہ روپیہ کمائیں اور زائد وقت تبلیغ اسلام پر صرف کریں۔اگر خدا تعالیٰ ہمیں اس کام میں جو ہم نے شروع کیا ہے کامیاب کر دے تو غریبوں اور یتیموں کی کتنی بڑی مدد ہو سکتی ہے۔اگر اس کے نتیجہ میں سو پچاس یتیم اور غریب بھی فاقہ زدگی