خطبات محمود (جلد 18) — Page 357
خطبات محمود ۳۵۷ سال ۱۹۳۷ء رسالت کا تم نے انکار کر دیا۔پس میں حیران ہوں کہ ادیب کہلانے والے ان محاوروں کو بھی کیوں نہیں سمجھتے جو جاہل سے جاہل زمیندار روزانہ بولتا ہے اور کوئی اس پر اعتراض نہیں کرتا۔”زمیندار“ جب یہ فقرہ استعمال کرتا ہے کہ ” خدا دے ہیٹاں ساڈے تسیں ہی ہو تو ” بیٹاں“ سے مراد یہ نہیں ہوتی کہ اب خدا کے بعد اسی مجسٹریٹ کا درجہ ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ میرے اس مقدمہ کا یا خدا فیصلہ کر سکتا ہے یا آپ فیصلہ کر سکتے ہیں۔وہاں نہ دین کا ذکر ہوتا ہے نہ رسول کریم ﷺ کے درجہ کا ذکر ہوتا ہے۔صرف اتنی بات ہوتی ہے کہ میرے اس مقدمہ میں یا مجسٹریٹ نے فیصلہ کرنا ہے یا خدا نے۔یا اگر گاؤں میں بیٹھ کر کوئی زمیندار اسی قسم کا فقرہ نمبر دار سے کہے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ میرا فیصلہ اب خدا کے ہاتھ میں ہے اور اس سے نیچے اتر کر نمبردار کے ہاتھ میں۔لیکن اگر ان معنوں کو ملحوظ نہ رکھا جائے اور جب کوئی زمیندار کسی نمبر دار کو کہے کہ خدا دے تو ہیٹاں ساڈے تسیں ہی ہو ، تو جھٹ پولیس کا کوئی آدمی اسے ہتھکڑی لگالے اور کہے کہ ہر میجسٹی شہنشاہ معظم کی بادشاہت کا یہ انکار کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ خدا کے نیچے نہ کوئی بادشاہ ہے نہ حاکم ، جو ہے یہ نمبر دار ہی ہے۔پس یہ ہائی ٹریژن (HIGH TREASON) کا مجرم ہے، اسے جیل بھیجنا چاہئے۔تو کیا ساری دنیا اس سپاہی کو پاگل ہے قرار نہیں دے گی ؟ وہ کہے گی اسے جیل خانہ بھیجنے کی بجائے تمہیں پاگل خانہ بھیجنا چاہئے۔کیونکہ تمہیں سوچنا چاہیئے تھا کہ اس فقرے کا محل کیا ہے اور اس کا مطلب کیا ہے۔پھر میں ان لوگوں کو کہتا ہوں کہ تم اپنے متعلق یہ دعویٰ کرتے ہو کہ ہمیں رسول کریم ہے۔محبت ہے مگر اس لفاظی کا کیا فائدہ۔تم نے کبھی غور بھی کیا ہے کہ تمہاری اس محبت میں جو تم رسول کریم ﷺ سے رکھتے ہو اور ہماری اس محبت میں جو ہم رسول کریم نے سے رکھتے ہیں کتنا عظیم الشان فرق ہے ؟ اور کتنا تین امتیاز ان دونوں میں موجود ہے۔میں ایک دفعہ قصور گیا وہاں ایک دوست کا ایک کارخانہ ہے۔وہ مجھے اپنا کارخانہ دکھانے کیلئے لے گئے۔اُس وقت تک وہ غیر مبائعین سے تعلق رکھتے تھے مگر اب وہ ہماری جماعت میں شامل ہو چکے ہیں۔اسی اثناء میں قصور کا ایک ہندو نوجوان جو نہایت ہوشیار اور چلتا پُرزہ تھا ، وہاں آ گیا اور مجھ سے کہنے لگا کہ میرا ایک سوال ہے آپ اس کا جواب دیں۔میں نے کہا دریافت کیجئے۔وہ کہنے لگا مجھے اس کی