خطبات محمود (جلد 18) — Page 352
خطبات محمود ۳۵۲ سال ۱۹۳۷ء رسول کریم ﷺ ہمالیہ کی طرح اپنے مقام پر کھڑے ہیں اور ایک لمحہ بھی آپ پر ایسا نہیں آتا جب آپ دنیا کو اپنے فیوض نہ پہنچا رہے ہوں ۔ صلى الله پس جس احمدی نے بھی یہ بات کہی ہے انہی معنوں میں کہی ہوگی کہ اس زمانہ میں جو لوگ ہیں ان کے لحاظ سے ہم اپنے خلیفہ کو بعد از خدا سمجھتے ہیں اور میں نے جیسا کہ بتایا ہے کہ اگر اس نے ان معنوں میں ان الفاظ کو استعمال کیا ہے تو یقیناً اُس نے سچ کہا ہے ۔ اس میں کیا شبہ ہے اور جیسا کہ سب لوگ جانتے ہیں ، میں نے بھی بار ہا بتایا ہے کہ جماعت احمدیہ کے خلیفہ کی حیثیت دنیا کے تمام بادشاہوں اور شہنشاہوں سے زیادہ ہے ۔ وہ دنیا میں خدا اور رسول کریم ﷺ کا نمائندہ ہے اور چونکہ د دین ، دنیا پر مقدم ہے اس لئے گو ہم دنیوی معاملات میں حکام کی اطاعت کریں گے لیکن اگر دین کا معاملہ آئے گا تو پھر ان بادشاہوں کو ہماری اطاعت اور فرمانبرداری کرنی پڑے گی ۔ آج اگر دنیا کا ایک بڑے سے بڑا بادشاہ بھی مذہب کی تحقیق کرتا ہے اور تحقیق کے بعد اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ اسلام ہی تمام مذاہب پر فضیلت رکھتا ہے تو جب وہ اس نکتہ پر پہنچے گا اُس کیلئے سوائے اس کے اور کیا چارہ ہوگا کہ وہ اسلام کے خلیفہ کے پاس آئے اور اُس کی بیعت کرے اور جب وہ خلیفہ وقت کی بیعت کرے گا تو لازماً وہ خلیفہ کے ماتحت ہوگا اُس سے بڑا نہیں ہوگا ۔ پس دنیا کے بادشاہوں کو جو بڑائی حاصل ہے وہ اُسی وقت تک ہے جب تک احمدیت اور اسلام کی صداقت اُن پر روشن نہیں ہوتی ۔ جس دن اُن پر اسلام اور احمدیت کی صداقت روشن ہو گئی اُسی دن وہی فقرے جو آج غرباء کے منہ سے سُن کر وہ ہنستے ہیں وہ خود کہنے لگ جائیں گے اور کہیں گے کہ آپ ہی ہمارے حال حاکم اور آپ ہی ہمارے سرتاج ہیں ۔ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ ایک بادشاہ احمدی ہوا اور وہ میرے ہاتھ پر بیعت کرے اور پھر وہ یہ کہے کہ میں تمہارا حاکم اور میں تمہارا بادشاہ ہوں ۔ لازماً وہ یہی کہے گا کہ دینی میدان میں میں ہی غلام ہوں ، میں ہی شاگرد اور میں ہی ماتحت ہو۔ عیسائیوں میں اس کی مثال موجود ہے چاہے وہ کیسی ہی غلط مثال ہو اور کتنے ہی غلط طریق پر ہو اور وہ یہ ہے کہ جو بادشاہ پوپ کو مانتے ہیں وہ پوپ کو اپنا سردار اور حاکم سمجھتے ہیں اور اُن کا عقیدہ یہ ہے کہ ہماری بادشاہتیں ہمیں پوپ سے ملی ہیں ۔ زمانہ وسطیٰ میں تو یہ قاء میں تو یہ قاعدہ تھا کہ جب بادشاہ تخت پر بیٹھتا تو وہ پوپ کے پاس اپنی بادشاہت کی منظوری منظوری کیلئے چٹھی بھیجتا اور جب وہ اسے بادشاہ تسلیم کرتا تب وہ اپنے