خطبات محمود (جلد 18) — Page 35
خطبات محمود ۳۵ سال ۱۹۳۷ء کام کرنا جبکہ اس کے ساتھ دین کی محبت اور دین کیلئے قربانی شامل ہو خود دین ہے۔ پس ایسے کارخانے جاری کرنے میں کوئی حرج نہیں جن کے ذریعہ غرباء کی امداد کی جاسکے۔ ہاں اگر ہم کارخانے اس لئے جاری کریں کہ امراء اپنی دولت میں بڑھ جائیں تو یہ بیشک نا جائز کام ہو گا لیکن ہمارا مقصد تو ان کارخانوں کے اجراء سے دولتمندوں کو دولت میں بڑھانا نہیں بلکہ یہ ہے کہ یتیم اور غریب لڑکے ہنر سیکھ جائیں اور وہ اپنی روزی خود کماسکیں ۔ یا مثلاً لجنہ اماء اللہ کو ہم نے روپیہ دیا کہ غریب عورتوں کو اس سے سوت وغیرہ لے دے تا کہ وہ کام کریں اور اس کام کے بدلے میں انہیں ضروریات کیلئے مناسب معاوضہ دیا جائے تو اس قسم کے کام نہ صرف یہ کہ نا جائز نہیں بلکہ عین دین ہیں اور قومی ترقی کیلئے ضروری ہیں ۔ پھر ان کارخانوں کے اجراء سے جن میں یتیم بچوں کو تر کھانے اور لوہارے کا کام سکھایا جاتا ہے یہ بھی غرض ہے کہ ان بچوں کو ساتھ کے ساتھ دین کی تعلیم بھی ملے۔ چنانچہ ان صنعتی سکولوں میں دینیات کی تعلیم بھی شامل کی گئی ہے۔ پس یہ تو عین خیر خواہی اور اسلام ہے اور اگر ہم نے اب تک اس کام کو شروع نہیں کیا تھا تو اس لئے نہیں کہ ہمیں یہ کام پسند نہیں تھا بلکہ اس لئے کہ ہم میں طاقت نہیں تھی ۔ اور جن کاموں کو ہم اب نہیں کر رہے وہ بھی اس لئے نہیں چھوڑے ہوئے کہ ہم انہیں پسند نہیں کرتے بلکہ اس لئے چھوڑے ہوئے ہیں کہ ہم میں ان کے کرنے کی طاقت نہیں ۔ اور ان کے سکھانے پر جو خرچ ہو گا وہ فائدہ سے زیادہ ہوگا۔ ہاں جیسا کہ میں نے بتایا ہے اگر ہم ایسے کارخانے جاری کریں جن کی غرض یہ ہو کہ امراء کی دولت بڑھتی چلی جائے تو یہ نا جائز ہوگا ۔ لیکن یہ کارخانے تو محض غرباء کی ہمدری اور ان کی آئندہ زندگی کو سنوار نے کیلئے جاری کئے گئے ہیں اور یہ بہت بڑے ثواب کا موجب اور عین دینِ اسلام کی تعلیم کے مطابق ہے۔ سارا قرآن کریم انہی باتوں سے بھرا پڑا ہے کہ غریبوں کی مدد کرو اور اُن کی ہمدردی اور خیر خواہی کرو۔ کیا دنیا میں ہزاروں دفعہ ہم ایسا نہیں کرتے کہ ہمارے سامنے کوئی غریب آتا ہے اور ہم اُسے پیسہ نکال کر دیتے ہیں ۔ اب کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ایک غریب شخص کو پیسہ دے دینا تو دینداری اور نیکی ہو لیکن اگر ہم اسے کوئی پیشہ سکھا دیں جس سے وہ ہمیشہ روٹی کھا سکے تو یہ نا جائز ہو جائے ۔ ہمارے گھر میں اگر سال بھر کا غلہ پڑا ہوا ہے اور غریب ٹھو کا مر رہا ہے تو یہ جائز لیکن اگر ہم غریب کو کوئی ایسا ہنر سکھا دیں جس سے وہ ہمیشہ کیلئے اپنی روزی آپ پیدا کر سکے تو یہ بے دینی بن جائے !! اصل بات یہ ہے کہ یہ اعتراض محض حسد کا نتیجہ ہے اور اس کی وجہ ان کی یہ جلن ہے کہ خود