خطبات محمود (جلد 18) — Page 347
خطبات محمود ۳۴۷ سال ۱۹۳۷ء میں میرا کوئی حصہ نہیں کیونکہ یہ چیزیں مجھے اپنے باپ دادا سے بطور ورثہ نہیں ملیں ۔ اگر ان میں سے کوئی شخص یہ بات نہیں کہہ سکتا تو انسان خواہ کسی مذہب سے تعلق رکھنے والا ہو اُس کا اولین فرض یہ ہونا چاہئے کہ وہ صداقت ، شرافت اور انصاف کو نہ چھوڑے ۔ وہ دشمنی کرے اور جتنی چاہے کرے مگر شرافت کے پہلو کو ترک نہ کرے۔ لڑائی کرے اور جتنی چاہے کرے مگر عداوت میں انصاف کے پہلو کو نہ بھولے ۔ وہ کچھ بھی بن جائے وہ انسان کا بچہ ہے، وہ کچھ بھی بن جائے وہ صادقوں کی اولاد میں سے ہے۔ پھر یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ایک اخبار کا ایڈیٹر جس کی ذمہ داری یہ سمجھی جاتی ہے کہ وہ دنیا میں اچھے اخلاق قائم کرے وہ شرافت ، انصاف اور صداقت کو ترک کر کے ایک ایسا حملہ کرے جس میں ایک ذرہ بھی سچائی نہ پائی جاتی ہو۔ اور ہمارا تو یہ دعوی ہو کہ ہم رسول کریم ﷺ کے غلاموں کے بھی غلام ہیں اور وہ یہ کہیں کہ ہم اپنے آپ کو رسول کریم ﷺ سے بڑا سمجھتے ہیں ، اس سے زیادہ جھوٹ اور اس سے زیادہ غلط بات اور کیا ہو سکتی ہے ۔ ہاں یہ ایک سچائی ہے اور اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہماری جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ اپنے زمانہ میں جماعت کے تمام لوگوں سے افضل ہوتا ہے اور چونکہ ہماری جماعت ہمارے عقیدہ کی رو سے باقی تمام جماعتوں سے افضل ہے اس لئے ساری دنیا میں سے افضل جماعت میں سے ایک شخص جب سب سے افضل ہوگا تو موجودہ لوگوں کے لحاظ سے یقینا اسے ” بعد از خدا جماعت کا جو جو خلیفہ ہو وہ ا۔ صلى الله صلى الله بزرگ توئی کہہ سکتے ہیں ۔ مگر اس کے یہ معنی نہیں ہونگے کہ وہ نَعُوذُ بِالله رسول کریم ﷺ سے بھی بڑا ہے یا نَعُوذُ بِاللہ درجہ میں رسول کریم ﷺ کے برابر ہے ۔ کیونکہ ہماری تمام عزت ، ہماری تمام بڑائی ، ہماری تمام ترقی اور ہمارا تمام اعزاز رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں ہے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں بعد از ه خدا بعشق محمد محمرم گر کفر این بود بخدا سخت کا فرم یعنی اے مسلمانو ! میری زندگی کا مَا حَصَن کیا ہے یہی کہ میں خدا تعالیٰ کے بعد رسول کریم ہے کی عزت دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہوں مگر تم باوجود ان باتوں کو دیکھنے کے مجھے کافر کہتے ہو جس سے معلوم الله ہوتا ہے کہ تمہیں میرے اندر کفر کی وجہ یہی نظر آئی ہے کہ میں خدا تعالی کے بعد رسول کریم ﷺ کا درجہ لوگوں میں قائم کرنا چاہتا ہوں ۔ لیکن اگر میرا یہ فعل مجرم ہے تو پھر میں یقیناً مجرم ہوں ۔ بلکہ اس سے بھی