خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 346 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 346

خطبات محمود ۳۴۶ سال ۱۹۳۷ء کریں ۔ انصاف ، سچائی اور شرافت یہ ورثہ مسلمان کا نہیں ، یہ ورثہ ایک عیسائی کا نہیں ، یہ ورثہ ایک یہودی اور ایک ہندو کا بھی نہیں بلکہ انصاف ، صداقت اور شرافت کی امید ایک مسلمان سے بھی اُسی طرح کی جاتی ہے جس طرح ایک ہندو سے ۔ اور انصاف ، صداقت اور شرافت کی امید ایک عیسائی سے بھی اسی طرح کی جاتی ہے جس طرح ایک یہودی سے ۔ خدا کے متعلق ان میں اختلاف ہو تو بیشک ہو ۔ عبادت کے متعلق ان میں اختلاف ہو تو بیشک ہو ، بعث بعد الموت کے متعلق ان میں اختلاف ہو تو بیشک ہو ، فرشتوں کے متعلق ان میں اختلاف ہو تو بیشک ہو۔ غرض مذہب کی تمام مجزئیات میں اگر اختلاف ہو تو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ مذہب کے اختلاف کے معنے یہی ہیں کہ عقائد میں بھی اختلاف ہے ۔ لیکن انصاف ، شرافت اور سچائی کے متعلق ساری دنیا متحد الخیال ہے۔ ایک ہندو کے نزدیک بھی انصاف ، شرافت اور سچائی اتنی ہی قیمتی ہونی چاہئیں جتنی ایک مسلمان کے نزدیک ۔ اور ایک عیسائی کے نزدیک بھی انصاف ، شرافت اور سچائی اتنی ہی قیمتی ہونی چاہئیں جتنی ایک یہودی کے نزدیک ۔ اسی طرح ایک سکھ کینز دیک بھی انصاف ، شرافت اور سچائی اتنی ہی قیمتی ہونی چاہئیں جتنی ایک جینی کے نزدیک ۔ اور ایک چینی کے نزدیک بھی انصاف ، شرافت اور سچائی اتنی ہی قیمتی ہونی چاہئیں جتنی ایک پارسی کے نزدیک ۔ کیونکہ مذہبی اختلاف سے مذہب تو بدل جاتا ہے لیکن انسانیت نہیں بدلتی ۔ پس یہ ایک ایسا خزانہ ہے جو مشترک ہے اور ہم میں سے ہر شخص کو یہ پابندی کرنی چاہئے کہ وہ اس میں سے اپنا اپنا حصہ لے ۔ ایک بت پرست کہہ سکتا ہے کہ میں توحید کا قائل نہیں ، تو حیدا گر خزانہ ہے تو مسلمانوں کا میرا نہیں ۔ ایک قیامت کا منکر کہہ سکتا ہے کہ قیامت اگر خزا نہ ہوگا تو ان کا جنہیں قیامت پر یقین ہے میرا اس میں حصہ نہیں کیونکہ میرے باپ دادا سے مجھے یہ خزانہ ورثہ میں نہیں ملا۔ ایک فرشتوں کا منکر کہہ یہ سکتا ہے کہ تمہیں فرشتوں کا وجود مبارک ہو میرے باپ دادا نے فرشتوں کا وجود رانے فرشتوں کا وجود کبھی تسلیم نہیں کیا پس یہ اگر خزانہ ہے تو تمہارا ہے میرا نہیں ۔ مگر کیا کوئی ہندو کہہ سکتا ہے کہ شرافت اور انصاف اور صداقت میں میرا کوئی حصہ نہیں کیونکہ یہ چیزیں مجھے اپنے باپ دادا سے نہیں ملیں ۔ یا کیا ایک یہودی کہہ سکتا ہے کہ شرافت اور انصاف اور صداقت میں میرا کوئی حصہ نہیں کیونکہ یہ چیزیں مجھے اپنے باپ دادا سے نہیں ملیں ۔ یا کیا کوئی عیسائی کہہ سکتا ہے کہ شرافت اور انصاف اور صداقت میں میرا کوئی حصہ نہیں کیونکہ یہ چیزیں مجھے اپنے باپ دادا سے نہیں ملیں۔ یا کیا ایک مسلما نکہہ سکتا ہے کہ شرافت اور انصاف اور صداقت