خطبات محمود (جلد 18) — Page 34
خطبات محمود ۳۴ سال ۱۹۳۷ء قادیان میں اب بعض ایسے کارخانے گھل گئے ہیں جن میں تیموں اور غریبوں کو کام کرنا سکھلایا جاتا ہے۔ اس لئے یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ قادیان کے لوگ بے دین ہو گئے ۔ گویا جو بیواؤں کو بُھو کا رکھیں، جو یتیموں کو ٹھو کا ماریں، جو غریبوں کو بُھو کا ماریں وہ تو دین دار مگر جو ان کی آسائش اور سہولت کیلئے کوئی کام نکالیں وہ بے ایمان اور اشاعت اسلام کے کام سے منحرف ۔ مگر میں مولوی محمد علی صاحب سے یہ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ ابھی زیادہ دن نہیں گزریں گے کہ وہ خود اسی قسم کے کام کرنے پر مجبور ہوں گے۔ یہ ایام خواہ ان کی زندگی میں آئیں یا ان کی اولادوں کی زندگی میں بہر حال زیادہ عرصہ نہیں گزرے گا کہ وہ خود اسی قسم کے کام کریں گے جس قسم کے کاموں پر وہ آج ہم پر اعتراض کر رہے ہیں ۔ وہ بیشک میرا یہ خطبہ اپنے اخبار میں چھاپ دیں تا آئندہ نسلوں کیلئے سند رہے کہ میں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ایک دن ان کی انجمن یہی کام کرنے پر مجبور ہوگی ۔ اگر یہ بات درست ثابت ہوئی تو ان کی نافہمی ان کی نسلوں پر ثابت ہو گی اور اگر درست نہ نکلی تو میرا میرا جھوٹ ثابت ہوگا ۔ ایک دوسری صورت بھی میں صورت بھی میں ان کے سامنے پیش کرتا ہوں ! کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اگر وہ یہ اعتراض دیانت داری سے کر رہے ہیں تو وہ اپنی طرف سے چوکھٹوں میں یہ الفاظ لکھ کر شائع کر دیں کہ اگر کبھی ہماری جماعت نے صنعتی مدر سے جاری کئے یا بیواؤں اور یتیموں کی خبر گیری کی اور انہیں کوئی ہنر اور پیشہ سکھانے کے لئے کوشش کی تو یہ سخت بے دینی ہوگی پھر وہ خود بخود دیکھ لیں گے کہ اگلی نسلیں ان پر لعنتیں کرتی ہیں یا نہیں کرتیں۔ اور اگر وہ کہیں کہ اگر ایسی ہی بات ہے تو پھر اور بھی بیسیوں کام ہیں وہ تم کیوں نہیں کرتے یا اس سے پہلے کیوں ایسے کام جار کام جاری نہیں کئے تھے؟ تو اس کا جوار کا جواب یہ ہے کہ ہر کا ہے کہ ہر کام کا وقت ہوتا ہے جب تک ہمارے آدمی تھوڑے تھے اور اُن کو کام پر لگانے کیلئے ایسے اخراجات اِسراف میں داخل تھے ہم نے یہ کام شروع نہیں کئے اور جب ہماری تعداد زیادہ ہوگئی اور بیکاری بڑھ گئی اور سکھانے کا خرچ اسراف نہ رہا، ہم نے یہ کام جاری کر دیئے ۔ اب اگر ہمارے پاس مزید طاقت ہو تو ہم یقیناً اور پیشے بھی سکھانے کیلئے جماعت میں کارخانے جاری کر دیں گے ۔ بلکہ اگر ہمارے اندر طاقت ہو تو میں تو اپنی جماعت کے افراد سے یہی کہوں گا کہ ہو سکے تو ہوائی جہاز بنانے سیکھو، جہاز بنانے سیکھو، کشتیاں بنانی سیکھو اور ان کے ذریعہ اگر غریبوں اور یتیموں کی امداد کر سکتے ہو تو کرو اور بیکاروں کو کام پر لگاؤ ۔ کام کرنا بے دینی نہیں دین چھوڑ کر کام کرنا بے دینی ہوتا ہے یا اپنی آمد کو عیاشی پر خرچ کرنا بے دینی ہوتا ہے ورنہ