خطبات محمود (جلد 18) — Page 336
خطبات محمود ۳۳۶ سال ۱۹۳۷ء نہیں ان کو بچانا ہمارا اولین فرض ہے۔اور اس کے علاوہ ان لوگوں کا قاعدہ ہے کہ جن کو سزا ملے ان کے پاس پہنچتے ہیں کہ آپ پر بڑا ظلم ہوا ہے اور اس طرح جماعتی اخلاق کو بگاڑتے ہیں اور بدنظمی پیدا کرتے ہیں۔اگر مجرموں کو ہم جماعت سے نہ نکالیں یا ان کو سزا نہ دیں تو پھر بھی اخلاق بگڑتے ہیں اور اگر سزا دیں تو وہ ان لوگوں کا شکار ہو سکتے ہیں اور چونکہ ایسے لوگوں کی حفاظت کرنا بھی ضروری ہے اس لئے کی ضروری ہے کہ اس قدر زور اور وضاحت سے خلافت کی اہمیت اور ایسے معترضین کی حماقت کو لوگوں پر ای واضح کر دیا جائے کہ ہر قسم کا آدمی خواہ کمزور ہو، خواہ مضبوط ان کے اندر شامل ہونے کو اپنی روحانی موت سمجھے۔ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان لوگوں نے تسلیم کر لیا ہے کہ یہ فری میسنوں کی طرح کی ایک خفیہ کی سوسائٹی ہے۔ہماری جماعت میں آج تک کوئی خفیہ سوسائٹی قائم نہ ہوئی تھی۔یہ پہلے لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ بیعت میں رہو، خدا کی قسمیں کھاؤ کہ ہم اپنی جانیں خلیفہ کیلئے قربان کر دیں گے مگر جب موقع پاؤ فتنہ پیدا کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک الہام ہے کہ فری میسن مسلط نہیں کئے جائیں گے کہ اس کو ہلاک کریں ، اور ہلاک کرنے سے آپ کی جماعت کا قتل ہے یا خلافت کا قتل ہے اور ظاہر ہے کہ جس جماعت کے افراد میں منافقت بھر دی جائے اُس نے کام کیا کرنا ہے اور جس جماعت کو ی خلافت سے جُدا کر دیا جائے اس نے ترقی کیا کرنی ہے۔تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ظاہر کرتا ہے کہ فری میسنوں جیسی سوسائٹی بنے گی جو تجھے قتل کرنا چاہے گی اور گوالہام میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ اس پر قادر نہ ہو سکے گی۔لیکن اس قدر عرصہ پہلے اس الہام کی کوئی اہمیت ہونی چاہئے اور وہ اہمیت ہی ہے کہ اس وقت مسلمان سابق اختلاف اور تفرقہ کی وجہ سے ایک ہاتھ پر جمع ہونے کی طاقت نہیں رکھتے۔اس بارہ میں ادنی ابتلاء انہیں اپنی جگہ سے ہلا دیتا ہے۔پس خدا تعالیٰ ہم کو ہوشیار کرتا ہے کہ ایسا قتل ممکن ہے گو ہم تم کو بچائیں گے لیکن تم کو ہوشیار ہو جانا چاہئے۔پس ہمارا فرض ہے کہ اس فتنہ کا پوری طرح مقابلہ کریں اور جب تک اپنے ارد گرد اِن لوگوں سے محفوظ رہنے کیلئے چار دیواری نہ کھینچ لیں ، آرام سے نہ بیٹھیں۔باہر کی جماعتیں ابھی اس کی اہمیت کو نہیں سمجھتیں مگر میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ اگر جماعت نے اس کے مقابلہ میں کوتاہی کی تو وہ خدا تعالیٰ کے