خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 328

خطبات محمود ۳۲۸ سال ۱۹۳۷ء ثبوت موجود ہے کہ میں مصری صاحب کو منافق نہیں سمجھتا تھا اور میں نے تحریری طور پر ان لوگوں کو ڈانٹا جو ان کے متعلق رپورٹیں دیتے تھے اور لکھا کہ وہ مخلص آدمی ہیں ان کے متعلق کیوں رپورٹیں کرتے ہو۔میرا سب سے زیادہ راز دان محکمہ تحقیقات ہی ہو سکتا ہے۔وہ اُس وقت کئی حرکات کر چکے تھے جن کو وہ محکمہ جانتا تھا مگر میں ان حرکات کو بالکل وقتی غلطیاں سمجھتا تھا۔پس جبکہ ان کے دعوئی کی بنیاد یہ ہے کہ انہیں میرے پروپیگینڈا سے پہلے عزت حاصل تھی اور میرا پروپیگنڈا اگر کوئی ہے تو اس خط کے بعد ہے۔اس سے ثابت ہوا کہ عزت کا مقام انہیں خط لکھنے تک حاصل تھا۔خلاصہ یہ ہے کہ ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے خطوط میں انکسار والے فقرات بناوٹی اور اپنے لئے جذبات رحم پیدا کرنے اور لوگوں کی ہمدردی حاصل کرنے کیلئے ہیں ان کی اصل حالت کبر والی ہی ہے۔ایک شکوہ مصری صاحب کو یہ ہے کہ مجھے گالیاں دی گئیں۔مگر سوال یہ ہے کہ خط و کتابت کی ابتداء میں نے کی یا شیخ صاحب نے ؟ اگر تو میں نے کی تو مجھ پر اعتراض ہوسکتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ مصری صاحب نے مجھے جو پہلا خط لکھا اُس کا پہلا ہی فقرہ یہ ہے کہ الْفِتْنَةُ نَائِمَةٌ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ اَيَقَظَهَا یعنی فتنہ سورہا ہے خدا کی لعنت ہو اُس پر جو اسے جگاتا ہے اور جیسا کہ خط کے مضمون سے ظاہر ہے وہ مجھے فتنہ کو جگانے والا قرار دیتے ہیں۔پس جو شخص خط کو شروع ہی لعنت سے کرتا ہے اس کا یہ شکوہ کہ مجھے گالیاں دی جاتی ہیں کس طرح درست ہو سکتا ہے۔پھر اسی اشتہار میں جس میں انہوں نے یہ شکوہ کیا ہے وہ لکھتے ہیں کہ اے جماعت اللہ تعالیٰ کے ارشاد فَتَبَيَّنُوا کو جو آپ نے توڑا ہے اس لئے مجھ کو ڈر ہے کہ اس کی وجہ سے آپ کہیں گرفت کے نیچے نہ آجائیں۔قرآن کریم میں فَتَبَيَّنُوا کا لفظ تین بار آیا ہے۔دو بار تو سورہ نساء میں ایک ہی جگہ آیا ہے اور وہاں یہ حکم ہے کہ اگر کوئی تو مسلم کا فروں میں سے آکر کہے کہ میں مسلمان ہوں تو بوجہ اس کے کہ وہ کافروں سے نکل کر آیا ہے، تمہیں چاہئے کہ اس کے متعلق تحقیقات کر لیا کر ویلے اور ظاہر ہے کہ یہاں یہ تو سوال ہی نہ تھا۔دوسرا موقع اس کا سورہ حجرات میں ہے جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَ كُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأُ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَدِمِينَ لا یعنی ے مسلمانو! اگر کوئی فاسق آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس کو نہ مانو جب تک کہ تحقیقات نہ کر لو۔تا ایسا نہ ہو کہ اس کی بات کو مان کر تم کسی غیر مجرم کو تکلیف پہنچا بیٹھو جس پر تمہیں بعد میں نادم ہونا پڑے۔