خطبات محمود (جلد 18) — Page 315
خطبات محمود ۳۱۵ ۲۴ سال ۱۹۳۷ء شیخ عبدالرحمن مصری کی طرف سے انکسار کا جھوٹا دعوی (فرموده ۳۰ جولائی ۱۹۳۷ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- اب میں اس سوال کو لیتا ہوں جو مصری صاحب نے لکھا ہے کہ میرے متعلق جو یہ کہا گیا ہے کہ میں نے جماعت میں اپنے اثر ورسوخ کا دعویٰ کیا ہے یہ غلط ہے۔ اور اس کے ثبوت میں وہ دوسری عبارتیں پیش کرتے ہیں جو انکسار پر دلالت کرتی ہیں ۔ چنانچہ وہ اپنی تائید میں یہ عبارت پیش کرتے ہیں: بیشک ان باتوں کی وجہ سے جو اقتدار آپ کو حاصل ہو چکا ہے ، اس پر آپ کو ناز ہے اور آپ یقین رکھتے ہیں کہ میں ( آپ ) مد مقابل کا سر ایک آن میں گچل سکتا ہوں اور اس میں بھی شک نہیں کہ میں جو آپ کے مقابلہ میں کھڑا ہونا چاہتا ہوں ایک نہایت ہی کمزور ، بے بس، بے کس ، بے مال، بے مددگار ہوں اور جہاں آپ کو اپنی طاقت پر ناز ہے مجھے اپنی کمزوریوں کا اقرار ہے ۔ ہاں میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ حق کی قوت میرے ساتھ ہے اور غلبہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُسی کو ہوتا ہے جو حق کی تلوار لے کر کھڑا ہوتا ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ ابتدا میں میری بات کی طرف توجہ نہ کی جائے اور میں اس مقابلہ میں کچلا جاؤں لیکن حق کی تائید کیلئے اور باطل کا سر کچلنے کی غرض سے کھڑے ہونے والے علماء اس قسم کے انجاموں سے کبھی نہیں ڈرتے“۔ تو وہ کہتے ہیں کہ میری اس تحریر میں انکسار کا دعوئی موجود ہے۔ پھر یہ کہنا کہ میں نے کسی عزت اور اثر و رسوخ کا دعویٰ کیا ہے، غلط ہے۔ مجھے اس بات کا انکار نہیں ہے کہ مصری صاحب کے خطوط