خطبات محمود (جلد 18) — Page 303
خطبات محمود ٣٠٣ سال ۱۹۳۷ء فرمانبرداری کا اقرار نہیں کرتے رہے؟ پھر ان کی اور حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کی نسبت ہی کیا ہے کہ وہ ان کی مثال اپنے لئے پیش کرتے ہیں۔چنانچہ اس بات کا ایک اور ثبوت کہ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر سے زبر دستی بیعت لی گئی یہ ہے کہ کہ جب جنگ جمل ہوئی انہوں نے حضرت علی کا مقابلہ کیا۔تو لکھا ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت طلحہ سے کہا أَمَا بَايَعْتَنِی کیا تم نے میری بیعت نہیں کی تھی؟ حضرت طلحہ نے کہا بَايَعْتُكَ وَ عَلَی عُنُقِى اللجے میں نے بیعت تو کی تھی مگر ایسی حالت میں جب تلوار میری گردن پر تھی۔مگر باوجوداس جبر کے انہوں نے بیعت کے وقت اقامت حد کی شرط کر لی۔گویا حضرت طلحہ اور حضرت زبیر نے جو بیعت کی وہ انہوں نے اپنی خوشی سے نہیں کی بلکہ زبردستی ان سے بیعت کرائی گئی۔اور اس کی ایسی ہی مثالی ہے جیسے جبراً کسی شخص سے کلمہ پڑھایا جائے اور پھر کہہ دیا جائے کہ وہ مسلمان ہو گیا ہے۔حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کو بھی وہ تلواروں سے ڈرا دھمکا کر بلکہ سختی سے گھسیٹ کر لائے اور انہوں نے کہہ بھی دیا کہ گو ہم بیعت کرتے ہیں مگر جبراً کرتے ہیں اور پھر اس شرط پر کرتے ہیں کہ حضرت عثمان کے قاتلوں سے بدلہ لیا جائے۔دراصل زبر دستی بیعت لوگوں نے انہیں اس لئے کرائی کہ وہ سمجھتے تھے یہ دونوں صحابہ اثر و رسوخ رکھنے والے ہیں اور اگر ان دونوں نے بیعت کر لی تو باقی مسلمان بھی بیعت کر لیں گے اور ی عالم اسلامی میں امن قائم ہو جائے گا۔مگر کیا مصری صاحب اور ان کے رفقاء نے بھی ایسی حالت میں بیعت کی تھی کہ ان کی گردنوں پر تلوار میں تھیں؟ اور کیا انہوں نے بھی بیعت کے وقت کوئی شرط کی تھی ؟ پھر حدیثوں میں محمد وطلحہ کی روایت سے یہاں تک آتا ہے کہ بیعت کرنے کے معا بعد حضرت طلحہ، حضرت زبیر اور بعض دوسرے صحابہ حضرت علی کے گھر گئے اور انہوں نے کہا کہ ہماری بیعت میں شرط تھی کہ حضرت عثمان کے قاتلوں پر حد قائم کی جائے گی پس آپ ان کو سزا دیں اور حضرت عثمان کے قاتلوں سے بدلہ لیں۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عذر کیا اور کہا اس وقت فساد کا خطرہ ہے اور سب سے مقدم اسلام کی حفاظت ہے قاتلوں کے معاملہ میں دیر ہو جانے سے کوئی حرج نہیں۔گویا انہوں نے ایک کی گھنٹہ بھی انتظار نہیں کیا بلکہ ادھر بیعت کی اور اُدھر ان کے گھر چلے گئے کہ ہماری شرط پوری کی جائے ورنہ ہم آپ کی بیعت سے آزاد ہیں۔اور یہ وہ ہیں کہ ۲۳ سال تک ان کا منہ میری تعریفیں کر کر کے سوکھتا ر مگر آج یہ کہہ رہے ہیں کہ میرا اور طلحہ وزبیر کا معاملہ ایک ہی ہے۔