خطبات محمود (جلد 18) — Page 285
خطبات محمود ۲۸۵ سال ۱۹۳۷ء چھپائے بیٹھے تھے۔پھر میں کسی انسان پر کس طرح بھروسہ کر سکتا ہوں۔فتح مکہ کے بعد رسول کریم ﷺ نے پانچ اشخاص کے متعلق حکم دیا تھا کہ جہاں بھی ملیں مار دئیے جائیں۔ان میں سے ایک ہندہ بھی تھی مگر وہ چادر اوڑھ کر دوسری عورتوں کے ساتھ بیعت کرنے آگئی۔رسول کریم ﷺ نے جب بیعت لیتے لیتے کہا کہ کہو ہم شرک نہ کریں گی تو چونکہ وہ بڑی دلیر عورت تھی اس سے نہ رہا گیا۔کہنے لگی کیا ہم لوگ ایسے ہی بیوقوف ہیں کہ اب بھی شرک کریں گے۔آپ اکیلے تھے اور ی ہم سارے تھے ، ہم نے مخالفت کی مگر آپ ہم میں سے ایک ایک کر کے سب کو چھین کر لے گئے آخر آپ جیتے اور ہم ہارے کیا اس کے بعد بھی ہم شرک کر سکتے ہیں؟ رسولکر یم ﷺ نے فرمایا کون ہے ؟ ہندہ؟۔مطلب یہ تھا کہ میں نے تو اس کے قتل کا حکم دیا تھا۔وہ کہنے لگی کہ اب تو میں مسلمان ہو چکی ہوں اب آپ مجھے نئے گناہ پر سزا دے سکتے ہیں پرانے پر نہیں ، وہ معاف ہو گئے۔یہی حال میرا ہے خدا تعالیٰ نے مجھے بار بار انسانوں کی کمزوری پر آگاہ کر دیا ہے پھر کیا میں اب بھی بندوں پر بھروسہ کر سکتا ہوں۔میں نہ آدمیوں سے خوش ہوں اور نہ ان کے ریزولیوشنز سے۔میں تو صرف اس لئے خوش ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے کہا ہے کہ میں تیرے ساتھ ہوں۔وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مخالفوں کی طرح سارے سانپ لا کر رکھ دیں میرے خدا کا سانپ ان سب کو نگل جائے گا۔اگر ایک شخص بھی تم میں سے میرے ساتھ نہ رہے تو بھی مجھے کوئی پرواہ نہیں۔کیونکہ میرا خدا مجھ سے کہتا ہے کہ میں تیرا ساتھ دوں گا پھر مجھے کسی اور کی کیا ضرورت ہے۔انہی دنوں میں میں نے ایک رؤیا دیکھا ہے وہ بھی مخالفوں کے تباہ ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک درختوں کا چھوٹا سا جنگل ہے جس میں کچھ درخت ہیں اور کچھ کھلا میدان۔اور تین چار پائیاں پڑی ہیں۔دوشرقاً غرباً اور ایک شمالاً جنوباً۔ان میں سے ایک پر میں بیٹھا ہوں اور ایک پر ایک بچہ اور ایک عورت بیٹھے ہیں۔وہ عورت اگر چہ محرم معلوم ہوتی ہے مگر اُس وقت اُس کا نام ذہن میں نہیں آتا۔میں نے یکدم دیکھا کہ بھورے رنگ کا ایک سانپ جو قریباً ڈیڑھ گز لمبا ہے چار پائی کے نیچے سے نکلا ہے۔میرے پاس چھوٹی سی سوٹی ہے میں نے دوڑ کر اُ سے مارا ، سوئی اُس کی کمر میں لگی اور وہ دوٹکڑے ہو گیا۔اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ دو مونہی ہے اور اُس کی دُم اور سر دونوں ہی میں زندگی کی کے آثار معلوم ہوتے ہیں (جیسا کہ عوام میں مشہور ہے کہ دو مونہی سانپ میں دو زندگیاں ہوتی ہیں سرکی