خطبات محمود (جلد 18) — Page 275
خطبات محمود ۲۵ سال ۱۹۳۷ء کی ایک کے بجائے دو گواہیاں سمجھی جائیں ہے اب دیکھو اس صحابی نے بغیر موجود ہونے کے رسول کریم ﷺ کی بات کی شہادت دی اور رسول کریم ﷺ نے سرزنش کی جگہ اس کی تعریف کی۔گو اس میں کوئی شک نہیں کہ اصولِ شہادت کے کی مطابق اگر یہودی مصر رہتا تو آپ اس کی شہادت کو تسلیم نہ فرماتے مگر وہ جھوٹا تھا گھبرا گیا اور دعوئی ترک کر دیا۔مگر اتنا تو ثابت ہوا کہ جب ایک شخص نے پہلے اس امر کی تحقیق کر لی ہو تو اس کے خلاف جو بات وہ سُنے اُس کا پہلا حق یہی ہوتا ہے کہ اسے رد کر دے۔پس اصل سوال اس جگہ یہ ہے کہ مذہبی معاملہ میں کیا انسان بے دیکھے اور بغیر سوچے سمجھے ہی مان لیا کرتا ہے؟ اگر نہیں تو جماعت کا فعل قابلِ اعتراض کیونکر ہوا۔انہوں نے میری خلافت کو بلکہ خلافت موعودہ کو اگر دلائل اور براہین سے مانا ہے تو شیخ صاحب یا اور کسی شخص کے دعویٰ کو وہ قابل قبول کس طرح سمجھ سکتے ہیں۔جماعت کے لوگوں کا نقطہ نگاہ یہ ہے کہ ہم نے سوچ سمجھ کر ایک شخص کو امام مانا ہے۔جو اس کی نفی کرتا ہے ہم اپنی پہلی تحقیق کے مطابق اسے سچا نہیں سمجھتے۔شیخ صاحب کا نقطہ نگاہ یہ ہے کہ جو میں کہتا ہوں اُس کو وزن دو اور اس کی تحقیق کرو۔آخر یہ دنیوی دعویٰ تو ہے نہیں کہ اس کی لازماً تحقیق کی جائے دینی دعوئی ہے جس کی تحقیق جماعت پہلے کر چکی ہے اور اس کی بناء پر وہ مجھے خلیفہ مان چکی ہے اور اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہاموں کا مورد مان چکی ہے۔اس تحقیق کے خلاف جو شخص بات کرتا ہے جب تک وہ اپنا دعویٰ ثابت نہ کر دے، ی جماعت مجبور ہے کہ اسے جھوٹا سمجھے۔آخر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ جماعت اپنے ایمان کو مصری صاحب کے ہاتھ میں دے دے اور اپنی تحقیق کو مصری صاحب کی تحقیق کے تابع کر دے۔حضرت خلیفہ اول کو یہ لوگ بھی اور ہم بھی خلیفہ مانتے ہیں۔ان کی زندگی میں ہم عملا مانتے تھے اور اب ایما نا مانتے ہیں۔اب اگر کوئی آکر کہے کہ حضرت خلیفہ اول نے نَعُوذُ بِاللهِ جھوٹ بولا تھا تو کیا ہمارا فرض ہے کہ فوراً تحقیقات کرنے لگ جائیں؟ ہر گز نہیں۔کیونکہ ہم نے جب آپ کو مانا تھا تو تحقیقات کر کے ہی مانا تھا اور اب الزام لگانے والے کو ہم جھوٹا کہیں گے۔ہاں جب وہ دلائل کے ساتھ ہمیں اپنا ہم خیال بنالے تو اسے سچا کہہ سکتے ہیں ورنہ جھوٹا ہی کہیں گے اور اس کا یہ کہنا کہ مجھے بلا تحقیقی جھوٹا کہا جاتا ہے، غلط ہے۔کیا جماعت بغیر تحقیق ہی میری بیعت میں شامل ہوگئی تھی اور ہر سال جو ہزاروں لوگ شامل ہوتے ہیں بغیر تحقیق کے ہی ہو جاتے ہیں۔جب انہوں نے تحقیق کر لی تو اب ج