خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 274 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 274

خطبات محمود ۲۷۴ سال ۱۹۳۷ء جانے کا فیصلہ ہو۔یہ بات تو ایسی ہی ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے وہ بیعت میں رہ ہی نہیں سکتے تھے۔پس انہوں نے اپنے اقرار سے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ انہوں نے خلیفہ وقت پر کوئی شدید ترین الزام لگائے ہیں۔اور جب یہ امران کا مسلمہ ہے تو وہ کس طرح یہ خیال ظاہر کرتے ہیں کہ جو لوگ مجھے سچا سمجھتے ہیں وہ ان سے اظہار نفرت نہ کریں گے۔انہوں نے اگر چہ تا حال وہ الزام بیان نہیں کئے بلکہ مجھے بھی تفصیلاً نہیں لکھے اشارات ہیں جن کے پیچھے خدا جانے کیا تفصیلات ہیں۔مگر یہ تو وہ تسلیم کر چکے ہیں کہ وہ ایسے ہی الزام ہیں کہ ان کے بعد وہ بیعت میں نہیں رہ سکتے۔اس لئے یقیناً وہ معمولی نہیں بلکہ خطرناک خطر ناک ہوں گے۔اس کے بعد وہ کس طرح توقع کر سکتے ہیں کہ وہ دوست جو مجھ سے مخلصانہ تعلق رکھتے ہیں ، ان سے اظہار نفرت نہ کریں۔جب وہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ میں ایسے الزام لگاتا ہوں کہ جن کی موجودگی میں بیعت میں رہ ہی نہیں سکتا تو اس سے زیادہ تحقیق کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے۔اس میں کی شبہ نہیں کہ ایک غیر آدمی جسے مجھ سے اخلاص نہ ہو ایسے الزامات کو اور رنگ میں لے گا مگر جو شخص مجھے سچائی سمجھتا ہے جب تک وہ دلائل کے ساتھ اسے اپنا ہم خیال نہ بنالیں وہ اگر سُنے گا کہ جسے وہ سچا اور راستباز سمجھتا ہے ، اس پر کوئی شخص ایسے ایسے الزام لگاتا ہے وہ فوراً الزام لگانے والے کو جھوٹا کہے گا اور اس کا یہ کہنا بلا تحقیق نہیں ہوگا کیونکہ اُس نے جب مجھے مانا تھا تو تحقیق کر کے مانا تھا۔پس جو شخص اس پہلی تحقیق کی کے خلاف کہے گا اور مجھ پر الزام لگائے گا وہ اسے جھوٹا کہنے پر مجبور ہوگا۔رسول کریم ﷺ کے پاس ایک یہودی آیا اور کہا کہ آپ نے میرے اتنے روپے دینے ہیں وہ اب تک دیے نہیں۔آپ نے فرمایا میں تو دے چکا ہوں۔اس نے کہا نہیں۔اس پر آپ سوچنے لگے کہ اس پر واقعہ کو کس طرح ثابت کروں۔ایک صحابی نے کہا يَا رَسُولَ الله ! آپ نے روپے دے دیئے تھے۔اس صحابی نے چونکہ دلیری اور وثوق سے کہا کہ آپ نے روپے دے دیئے تھے اور یہودی چونکہ جھوٹا تھا ، گھبرا گیا اور اس نے مان لیا کہ ہاں آپ نے روپے دے دیئے تھے، مجھے یاد آ گیا پہلے میں بُھول گیا تھا اور اُٹھ کر چلا گیا۔رسول کریم ﷺ نے اس صحابی سے پوچھا کہ تمہیں کس طرح معلوم ہے کہ میں نے روپے دے دیئے تھے تم تو وہاں نہیں تھے۔اس نے کہا يَارَسُولَ اللہ ! آپ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے مجھ سے یہ کہا ہے اور ہم مان لیتے ہیں کیونکہ ہمیں یقین ہو چکا ہے کہ آپ راستباز ہیں، تو پھر اس معاملہ میں آپ کی بات کے صحیح ہونے میں شک کس طرح ہو سکتا تھا۔آپ نے فرمایا آئند ہ اس شخص