خطبات محمود (جلد 18) — Page 260
خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء مصری صاحب یہ کہتے ہیں کہ کاش! آپ نے اس پر غور کیا ہوتا وہ یہ ہے ملک صاحب لکھتے ہیں :- میں نے دیکھا کہ سالانہ جلسہ کا موقع ہے حضور شیخ پر کھڑے تقریر فرما رہے ہیں۔آپ کے دائیں طرف شیخ عبد الرحمن صاحب مصری بیٹھے ہوئے ہیں اور جوں جوں حضور تقریر فرماتے ہیں وہ آپ کا کی منہ چڑا رہے ہیں۔سٹیج پر جو دوسرے لوگ بیٹھے ہیں ان میں سے بعض مصری صاحب کی اس حرکت کو دیکھ ا رہے ہیں۔اتنے میں حضور نے تقریر ختم کی اور مصری صاحب اُٹھ کھڑے ہوئے اور حضور سے مخاطب ہوکر کہنے لگے کہ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔خواب میں مجھے ایسا معلوم ہوا کہ حضور کو معلوم ہے اور دوسرے دوستوں کو بھی معلوم ہے کہ مصری صاحب کیا کہیں گے۔لیکن حضور نے پھر بھی ان کو اجازت دے دی کہ آپ کہہ لیں۔ان کے ہاتھ میں ایک اچھا خاصہ لمبا چوڑا کاغذ کا ٹکڑا ہے اُس کو انہوں نے ی پڑھنا شروع کر دیا۔اُس میں لکھا ہوا تھا کہ ان وجوہات کی وجہ سے میں جماعت سے علیحدہ ہورہا ہوں بعینہ یہ الفاظ انہوں نے کہے اور اس کا غذ سے وہ وجوہات پڑھ رہے ہیں۔اُس وقت کوئی بات جو انہوں نے پڑھی مجھے یاد نہیں۔ابھی وہ کھڑے ہوئے اپنا کاغذ پڑھ ہی رہے تھے کہ حضور کرسی سے اُٹھ کر روانہ ہو گئے اور دوسرے دوست بھی ساتھ ہی چلے گئے اور مصری صاحب کو چھوڑ گئے۔پھر معلوم نہیں ہوا کہ مصری صاحب کا کیا حشر ہوا۔اب وہ کہتے ہیں دیکھو! اس خواب سے میری کیسی زبر دست تائید ہوتی ہے حالانکہ اس خواب میں صاف بتایا گیا ہے کہ مصری صاحب منہ چڑا رہے ہیں اور منہ چڑانا کوئی خوبی کی بات نہیں بلکہ غیر مومنانہ فعل ہے۔مگر وہ اِس امر کو قطعاً نظر انداز کرتے ہوئے کہتے ہیں صاف لکھا ہے میں منہ چڑا رہا ہوں اور جماعت مجھے کچھ نہیں کہتی اور یہی میری کامیابی کی بشارت ہے۔گویا منہ چڑا نا خاص مؤمنوں کی علامت ہے جو شیخ صاحب میں پائی جاتی ہے۔حالانکہ قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ تالیاں پیٹنے اور ان سیٹیاں بجانے والے بھی مؤمن نہیں۔پھر جو شخص دوسرے کا منہ چڑاتا ہے وہ کس طرح مومن سمجھا جا سکتا ہے۔پھر خواب میں جو یہ دکھایا گیا کہ سٹیج پر جو دوسرے لوگ بیٹھے ہیں ان میں سے بعض مصری صاحب کی اس حرکت کو دیکھ بھی رہے ہیں“۔یہ حصہ صاف طور پر بتاتا ہے کہ باوجود ان کی طرف سے ایسی حرکات صادر ہونے کے جن سے طبائع میں اشتعال پیدا ہو جماعت صبر سے کام لے گی اور انہیں کچھ نہیں کہے گی۔وہ دیکھے گی کہ مصری صاحب کیا کر رہے ہیں۔مگر باوجود اس کے کہ وہ گند ظاہر کرتے چلے