خطبات محمود (جلد 18) — Page 26
خطبات محمود ۲۶ سال ۱۹۳۷ء سے پوچھے گا کہ تم کیسے تھے ۔ اگر کسی جگہ کا پریزیڈنٹ یا سیکرٹری سست ہوگا اور اُن کی سستی کی وجہ سے جماعت کے لوگ تحریک میں حصہ لینے سے محروم رہیں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں معاف نہیں کرے گا بلکہ کہے گا کہ تم میں سے ہر شخص پریذیڈنٹ اور سیکرٹری تھا اور تمہارا فرض تھا کہ جب کوئی پریذیڈنٹ یا سیکرٹری سستی میں مبتلا تھا تو تم خو داس کی جگہ کام کرتے۔ پس جہاں جہاں میرا یہ خطبہ پہنچے اور جہاں جہاں جماعتوں کے پریزیڈنٹوں یا سیکرٹریوں نے تحریک جدید کو ہر مرد اور ہر عورت تک نہ پہنچایا ہو وہاں کی جماعت کے جس بندے کو بھی خدا تعالیٰ توفیق دے وہی کام شروع کر دے۔ خدا تعالیٰ کے حضور وہی پریزیڈنٹ اور وہی سیکرٹری شمار کیا جائے گا۔ پھر جن جماعتوں پر سستی چھائی ہوئی ہے وہاں کی قریب جماعتوں کو چاہئے کہ وہ ان کی سستی کو دور کرنے کی کوشش کریں اور انہیں اس تحریک میں حصہ لینے پر آمادہ کریں ۔ مثلاً اگر لاہور والے دیکھیں کہ قصور ، امرتسر ، شیخو پورہ یا فیروز پور کی جماعت چندوں کی ادائیگی میں سستی دکھاتی ہے اور وہ اپنا کام کر کے وہاں جائیں تو وہ ڈہرے بلکہ تہرے ثواب کے مستحق ہوں گے۔ یا شیخوپورہ، قصور، امرتسر اور فیروز پور کی جماعتوں کو معلوم ہو کہ لاہور اور گوجرانوالہ کی جماعتیں سُست ہیں اور وہ اپنی جماعت کے آدمی بھیج کر ان کو چست کریں تو یقیناً وہ دُہرے بلکہ تہرے ثواب کے مستحق ہوں گے ۔ میرا اِس ۔ ہوں گے ۔ میرا اِس سے یہ مطلب نہیں کہ یہ جماعتیں سستی کرتی ہیں میں نے صرف مثال کے طور پر چند نام لے دیئے ہیں ۔ پس ہر جماعت کو چاہئے کہ وہ اپنی جماعت سے قریب تر جماعت کو اگر اعت کو اگر سُستی اور غفلت میں مبتلا پائے تو اُس کا مبتلا پائے تو اُس کی سستی اور غفلت کو دور کرنے کی کوشش کرے ۔ میں نے بار ہا بتایا ہے کہ کوئی گھر اپنے ہمسایہ گھر کو آگ لگنے کے بعد محفوظ نہیں ہوتا۔ پھر جب رسول کریم ﷺ نے فرما دیا کہ تمام مومن آپس میں ایسے ہی ہیں جیسے ایک جسم کے مختلف اعضاء تو کیسے ممکن ہے کہ ایک عضو میں بیماری ہو اور باقی جسم اس بیماری کی وجہ سے تکلیف نہ اُٹھائے ۔ اگر زید ، بکر ، عمر اور خالد ہاتھ ، کان ، ناک اور پاؤں کی حیثیت رکھتے ہیں تو اسی طرح گوجرانوالہ، شیخو پورہ ، قصور، دہلی اور راولپنڈی کی جماعتیں بھی ہاتھ، پاؤں، ناک، کان اور اُنگلیوں کی حیثیت رکھیں گی ۔ پس یہ کیونکر ممکن ہو سکتا ہے کہ جسم کا پاؤں یا ہاتھ یا کوئی اور عضو بیمار ہوا اور سارا جسم اذیت نہ اُٹھائے ۔ یقیناً جو بیماری ایک جگہ ہے وہ اپنا اثر دوسرے اعضاء پر بھی ڈالے گی ۔ اسی لئے مومن کی صرف اس بات پر تسلی نہیں ہوتی کہ