خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 253 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 253

خطبات محمود ۲۵۳ سال ۱۹۳۷ء سے دریافت کرے کہ کس نے انہیں تکالیف پہنچائیں اور اس نے انہیں چٹھی بھی لکھی مگر انہوں بتانے سے انکار کر دیا ہے۔وہ کہنے لگے پھر کیا ہوا، آپ خود پتہ لگا لیں کہ کس کس نے انہیں سو دا د ینے یا دودھ دینے سے انکار کیا ہے۔میں نے کہا آپ ذرا سوچیں مجھے کیا معلوم ہے کہ مصری صاحب کے ہاں کونسی عورت دودھ دینے جایا کرتی ہے۔کیا مجھے روزانہ اطلاع ملا کرتی ہے کہ آج انہوں نے مائی عمراں کی سے سیر بھر دودھ لیا اور کل کسی مائی گھسیٹی ہے۔ان باتوں کا ہمیں کیا پتہ لگ سکتا ہے جب تک وہ خود ہی نہ بتائیں کہ انہیں کونسی عورت دودھ دیا کرتی تھی تا کہ ہم اس سے دریافت کر سکیں کہ اسے کس نے روکا۔اب قادیان میں دس ہزار آبادی ہے اور مجھے کوئی علم نہیں ہو سکتا کہ ہر شخص دودھ کس سے لیتا ہے، گوشت کہاں سے خریدتا ہے اور سبزی کس سے لیتا ہے۔کیا آپ کا یہ مطلب ہے کہ جس دن مجھے رپورٹ ملے کہ مصری صاحب کے ہاں آج دودھ نہیں پہنچا اُس دن میں ڈھنڈورا پٹوا نا شروع کر دوں کہ مصری صاحب کے ہاں کونسی عورت دودھ دینے جایا کرتی تھی۔اور جب مجھے معلوم ہو کہ فلاں عورت تھی تو اس سے وجہ دریافت کروں کہ وہ آج کیوں نہیں گئی۔یہ سن کر وہ کہنے لگے بیشک ان باتوں کے بتانے کی ذمہ داری تو خود مصری صاحب پر عائد ہوتی ہے۔میں نے کہا یہی بات ہم پیش کر رہے ہیں کہ اگر ی شکایات کو انہوں نے نیک نیتی سے پیش کیا تھا تو ان کا فرض تھا کہ وہ بتاتے ہمارے ہاں فلاں فلاں عورت دودھ دے جایا کرتی تھی مگر اُسے اب فلاں نے روک دیا ہے۔مگر وہ یہ باتیں تو بتاتے نہیں اور یونہی کہتے پھرتے ہیں کہ میری پوتی کا دودھ بند کر دیا گیا۔ہمیں کیا معلوم کہ ان کی پوتی کو کون عورت کی دودھ دیا کرتی تھی۔ہمسائیوں کو پھر بھی بعض باتیں معلوم ہو سکتی ہیں مگر وہ بھی ہر بات کا علم نہیں رکھ سکتے۔مثلاً آج ہی جو چیزیں میں نے دکان سے منگوائی ہیں ان کی اگر لسٹ سناؤں تو دکاندار تو بتا سکتے ہیں کہ فلاں فلاں چیز ان کے ہاں سے آئی لیکن جو چیز میں عورتیں گھروں میں لاتی ہیں ان کا کسی کو کیا پتہ ہوسکتا ہے۔اب اگر کوئی عورت ہمارے گھر میں کدو دے گئی ہو اور میں دریافت کروں بتاؤ ہمارے ہاں کون عورت کدو دے گئی ہے اور وہ جنگل کی تھی یا بھینی کی تو کیا آپ لوگ جو اس وقت جمعہ کے لئے جمع ہیں اس کا جواب دے سکیں گے؟ یہ تو میرے گھر کے لوگوں کا کام ہوگا کہ وہ بتائیں کہ فلاں عورت آج کدو دے گئی ہے۔اسی طرح یہ مصری صاحب کا کام ہے کہ وہ بتائیں کہ کس سے دودھ لیا کرتے تھے تا اس سے دریافت کر کے ان کی شکایت کی حقیقت معلوم کی جا سکے۔مگر جب وہ بتاتے ہی نہیں اور شور مچائے کی