خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 252

خطبات محمود ۲۵۲ سال ۱۹۳۷ء وہ باتیں پہلے بھی انہیں معلوم تھیں تو سوال یہ ہے کہ وہ ان کے نکلنے تک خاموش کیوں رہے اور کیوں جب تک میاں فخر دین ملتانی جماعت سے خارج نہیں ہوئے انہوں نے ان خیالات کا اظہار نہیں کیا۔اس سے صاف طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان تینوں میں اندر ہی اندر کوئی معاہدہ تھا اور جب ان میں سے ایک شخص جماعت سے نکل گیا تو دوسروں نے سمجھا اب اگر ہم بھی بیعت سے الگ نہ ہونگے تو یہ غداری کی ہوگی۔اگر انہیں کوئی ایسی ہی باتیں معلوم تھیں جن کی وجہ سے ان کے لئے ضروری تھا کہ وہ بیعت کا عہد فسخ کر دیتے تو اس سے بہت پہلے وہ اپنے عہد کو فسخ کر چکتے لیکن ان تینوں کا ایک ہی موقع پر ظاہر ہونا بتا تا ہے کہ اندر ہی اندر ان تینوں میں کوئی کھچڑی پک رہی تھی۔جب اس حد تک انہوں نے سازشیں کیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مرنے جینے کا اقرار کر لیا اور جماعت کو تفرقہ میں ڈال دینا چاہا تو ہما را حق تھا کہ ان کے جماعت سے الگ ہونے کا اعلان کر کے جماعت کے لوگوں کو ان سے ملنے کی ممانعت کر دیتے تا وہ اپناز ہر نہ پھیلا سکیں اور تا اگر ان کا کوئی اور ہم خیال ابھی ہم میں موجود ہو تو وہ ظاہر ہو جائے اور اسے بھی ہم اپنے اندر سے نکال کر ان کے ساتھ شامل کر دیں۔مجھے افسوس ہے کہ مصری صاحب کا طریق بالکل مستریوں کے طریق سے ملتا جلتا ہے۔انہوں نے بھی مفروضہ مظالم کا شور مچا دیا تھا اور پھر ثبوت پیش کرنے سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ اس کی ذمہ داری مالی کسی اور پر نہیں صرف خلیفہ پر ہے۔یہ بھی شور مچارہے ہیں کہ ہم پر ظلم ہو رہا ہے مگر بتاتے نہیں کہ ان پر کون ظلم کر رہا ہے۔ہاں اتنا ضرور کہے جاتے ہیں کہ یہ سب ظلم خلیفہ کر رہا ہے۔ہم ان سے کہتے ہیں آؤ ہم ان امور کی جنہیں تم مظالم کہتے ہو تحقیق کریں مگر وہ اس کیلئے بھی تیار نہیں ہوتے۔نہ یہ بتاتے ہیں کہ کس نے ان کے مزدوروں کو روکا ، نہ یہ بتاتے ہیں کہ کس نے سودا دینے سے انکار کیا۔ہاں کہتے ہیں ہم اتنا بتائے دیتے ہیں کہ یہ سب ظلم خلیفہ کروا رہا ہے جس سے ان کا منشاء یہ ہے کہ جماعت کے جو منافقین ہیں وہ یہ سن کر شور مچادیں کہ ہاں واقعی بڑا ظلم ہورہا ہے۔حالانکہ اگر ان کا منشاء یہ تھا کہ ان کی شکایات دور ہوں تو انہیں چاہئے تھا کہ ہمیں وہ لوگ بتاتے جن سے انہیں شکوہ پیدا ہو مگر جب وہ بتاتے ہی نہیں تو اصلاح کس طرح ہو۔ابھی تھوڑے دن ہوئے میرے پاس ایک غیر احمدی دوست تشریف لائے اور کہنے لگے آپ ان کی شکایات کا ازالہ کیوں نہیں کرتے ؟ میں نے کہا میں نے تو نظارت امور عامہ کو ہدایت کی تھی کہ ان