خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 227 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 227

خطبات محمود ۲۲۷ سال ۱۹۳۷ء میری مریدی کا تعلق ان کے ہوتے ہوئے ممکن نہیں تو آپ کو خارج کرنے کے کوئی معنے نہیں۔یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ ایک شخص کہے میں آپ کے عقائد کو تسلیم نہیں کرتا یا آپ کی بیعت میں رہنے کیلئے تیار نہیں اور ہم یہ کہیں کہ نہیں تم ایک دفعہ بیعت کر چکے ہو اب ہم تمہیں الگ نہیں ہونے دیں گے۔ایمان کے معاملہ اور دنیوی سو دوں میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔دُنیوی سو دوں میں تو ایک شخص جب اپنی چیز بیچی دیتا ہے تو پھر واپس نہیں لے سکتا۔دوسرا کہتا ہے میں اتنی سائی کے دے چکا ہوں یا فلاں معاہدہ ہو چکا ہے اب تم اس معاہدہ سے نہیں پھر سکتے۔لیکن دینی معاملات میں جب کوئی شخص کہے کہ میں نظام جماعت سے بیزار ہوں یا فلاں عقائد ترک کرتا ہوں تو وہ اُسی وقت الگ ہو جائے گا۔یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک شخص کہے میں اسلام کو جھوٹا سمجھتا ہوں اور ہم کہیں کہ تم ایک دفعہ اس کی سچائی کا اقرار کر چکے ہو اس لئے اب ہم تجھے جھوٹا نہیں سمجھنے دیں گے۔پس میں نے انہیں جو کچھ لکھا اس کا مطلب یہی تھا کہ چونکہ یہ دینی معاملہ ہے اور اس میں کسی پر کوئی جبر نہیں ہوسکتا آپ کے دل میں جب سے وہ گند پیدا ہوا ہے خدا تعالیٰ کی نگاہ میں اور جب۔آپ نے اسے مجھ پر ظاہر کیا ہے آپ جماعت سے میری نگاہ میں بھی الگ ہیں۔لیکن اگر آپ کو میری نان تحریر کی ہی ضرورت ہے تو میں آپ کو اطلاع دیتا ہوں کہ آپ خدا تعالیٰ کے نزدیک تو ان خیالات کے کی پیدا ہونے کے دن سے ہی جماعت احمدیہ سے خارج ہیں۔یعنی جب آپ نے مجھے پہلا خط لکھا تھا اُس کی وقت سے نہیں بلکہ جب سے آپ کے دل میں وہ خیالات پیدا ہونے شروع ہوئے ، آپ جماعت احمدیہ سے خارج ہیں۔اور یہ کوئی ایسی بات نہیں جس کا سمجھنا ایک مولوی اور ایک عالم کہلانے والے کیلئے کوئی مشکل ہو۔انہیں بہر حال پہلے ہی سمجھ لینا چاہئے تھا کہ اب میری بیعت کوئی بیعت نہیں۔لیکن وہ پہلا خط لکھتے ہیں اور اس کے بعد دوسرا خط لکھتے ہیں اور میرے سامنے شرطیں پیش کئے جاتے ہیں اور پھر دوسرے کے بعد تیسر ا خط لکھتے ہیں اور اس میں بھی شرطیں پیش کر دیتے ہیں۔جس کے سوائے اس کے کی اور کوئی معنے نہیں تھے کہ وہ میرے منہ سے کہلوانا چاہتے تھے کہ میں انہیں جماعت سے علیحدہ سمجھتا ہوں۔اسی لئے میں نے لکھا کہ اگر آپ کو میری تحریر کی ہی ضرورت ہے تو میں آپ کو اطلاع دیتا ہوں کہ آپ کی خدا تعالیٰ کے نزدیک تو اُسی وقت سے جماعت سے خارج ہیں جب سے آپ کے دل میں یہ خیالات پیدا ہوئے۔” اور ان خطوط کے بعد جو حال میں آپ نے مجھے لکھے ہیں میں بھی آپ کو جماعت۔