خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 226

خطبات محمود ۲۲۶ سال ۱۹۳۷ء گھنٹہ تک آپ کی تسلی نہ کی گئی تو آپ جماعت سے علیحدہ ہو جائیں گے۔سو میں اس کا جواب بعد استخارہ لکھ رہا ہوں کہ آپ کا جماعت سے علیحدہ ہونا بے معنی ہے“۔دیکھ لو اس جگہ میں نے یہ نہیں لکھا کہ میں آپ کو جماعت سے علیحدہ کرتا ہوں بلکہ میں نے یہ لکھا ہے کہ آپ کا جماعت سے علیحدہ ہونا بے معنی ہے۔اور یہ بات خود ان کے خط سے ظاہر ہے۔کیونکہ انہوں نے لکھا تھا کہ اگر چومیں گھنٹہ تک ان کی تسلی نہ کی گئی تو انہیں جماعت سے علیحدہ سمجھا جائے۔اس کے بعد میں نے لکھا:۔” جب سے آپ کے دل میں وہ گند پیدا ہوا ہے جو آپ نے اپنے خطوں میں لکھا ہے آپ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں جماعت سے خارج ہیں“۔یعنی کسی کے خارج کرنے کا سوال ہی نہیں بلکہ آپ اپنے عمل سے خود جماعت سے علیحدہ ہیں۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی مسلمان کے میں محمد ﷺ کو نَعُوذُ باللهِ جھوٹا سمجھتا ہوں لیکن میں اُس وقت مسلمان ہی رہوں گا جب تک مسلمان مجھے اسلام سے خارج نہیں کرتے۔حالانکہ اس امر میں کسی کے خارج کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔جب وہ کہتا ہے کہ میں محمد ﷺ کو نَعُوذُ بِاللهِ ) جھوٹا سمجھتا ہوں تو جس دن سے وہ آپ کو جھوٹا سمجھنے لگے اُسی دن سے وہ اسلام سے الگ ہو جائے گا۔میں نے بھی انہیں یہی لکھا کہ جب سے آپ کے دل میں گندے خیالات پیدا ہوئے ہیں آپ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں جماعت سے خارج ہیں۔کیونکہ خدا عالم الغیب ہے وہی سمجھ سکتا ہے کہ آپ کے دل میں ایسے خیالات کب سے پیدا ہوئے۔لیکن بہر حال جب سے وہ خیالات آپ کے دل میں آئے اُسی وقت سے آ خدا تعالیٰ کے نزدیک جماعت سے علیحدہ ہیں۔اس کے آگے میرے اعلان کی عبارت یہ ہے ” خدا تعالیٰ اب بھی آپ کو تو بہ کی توفیق دے۔پھر جب سے آپ نے میرے خط میں ان خیالات کا اظہار کیا ہے اُسی وقت سے آپ جماعت سے میری نگاہ میں بھی الگ ہیں۔یعنی میں چونکہ بندہ ہوں اور مجھے علم غیب نہیں۔مجھے معلوم نہیں تھا کہ آپ کے دل میں کیا خیالات پیدا ہورہے ہیں لیکن جب سے مجھے ان خیالات کا علم ہوا ہے ” آپ جماعت سے میری نگاہ میں بھی الگ کی ، ہیں۔یعنی آپ کو خارج کرنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔جب آپ کے خیالات ایسے ہو چکے ہیں کہ